لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، کراچی دہشت گردوں کے نشانے پر، حملوں کا خطرہ، سکیورٹی الرٹ

لاہور (معین اظہر سے) دہشت گردوں نے ملک کے چار بڑے شہروں کو ٹارگٹ کر لیا جن میں لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اور کراچی شامل ہیں اس کے علاوہ امن و امان قائم کرنے والے اداروں، وی آئی پی شخصیات، پارلیمنٹ ہاﺅس، پنجاب اسمبلی، پارلیمنٹ لاجز، ملیر کنٹونمنٹ، بنوں کنٹونمنٹ سمیت رائے ونڈ روڈ لاہور، راولپنڈی روڈ پر کسی وی آئی پی شخصیت کو ٹارگٹ کرنے کے منصوبے تیار کر لئے ہیں۔ تحریک طالبان ولی الرحمان گروپ، لشکر جھنگوی، تحریک طالبان پاکستان کا طارق گیدار گروپ اور تحریک طالبان پنجاب کے اسلم یاسین اور مطیع الرحمان گروپ نے کارروائیوں کے لئے منصوبہ بندی کر لی ہے۔ وزارت داخلہ کو خفیہ اداروں سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق بے نظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کابل انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی طرز کا حملہ کیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ نور خان بیس کو بھی ٹارگٹ کئے جانے کا امکان ہے۔ ہائی سکیورٹی الرٹ جاری کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔ حساس اداروں کے مطابق یکم جون کو فلائٹ لیفٹیننٹ سکندر جی ڈی پی پائلٹ کا آئی ڈی کارڈ، اے ٹی ایم کارڈ اور فون موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کراچی سے چھین کر فرار ہو گئے۔ اسی طرح پرویز جو پی اے ایف کا ملازم ہے اس کا آئی ڈی کارڈ بھی چوری ہو گیا ہے۔ 4 جون کو محمود پی اے ایف بیس مسرور سے آئی ڈی کارڈ چوری ہوا، دہشت گرد یہ آئی ڈی کارڈز دہشت گردی کے منصوبہ کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد ریڈ زون، غیرملکی سفارت خانوں، سیاسی مذہبی رہنما اور فوجی اور امن و امان قائم کرنے والے اداروں کے دفاتر کو ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے۔ لشکر جھنگوی گھی اور آئل کے ٹین حاصل کر رہا ہے جس سے بڑے خود کش حملے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان القاعدہ کے ساتھ مل کر لاہور شہر میں کارروائی کر سکتی ہے۔ اس کے لئے ٹیوٹا ڈبل کیبن، میرون رنگ کی ٹیوٹا سرف دہشت گردی میں استعمال ہو سکتی ہے۔ 13 دہشت گرد جن میں چار خود کش بمبار ہیں لاہور میں دہشت گردی کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔