”مرد حر“ آصف علی زرداری ایوان کارکنان میں آ کر ”نظریہ پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگائیں‘ مسلم لیگ کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے : مجید نظامی

”مرد حر“ آصف علی زرداری ایوان کارکنان میں آ کر ”نظریہ پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگائیں‘ مسلم لیگ کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے : مجید نظامی

لاہور (خبر نگار) تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ممتاز صحافی اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے کہا ہے اگر ہم نے ایک خوددار قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا ہے تو تمام گروہی‘علاقائی اور لِسانی تعصبات کو مٹانا اور صرف ایمان‘اتحاد اور نظم کے سنہری اصولوں پر عمل کرناہوگا۔ صدر مملکت اور مردحُرآصف علی زرداری کو میری دعوت ہے کہ ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں آکر ”نظریہ¿ پاکستان کھپے“کانعرہ لگائیں۔وہ ایوان کارکنان تحریک پاکستان 100شاہراہ قائداعظمؒ ‘لاہور میں ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ جس میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی سینئر وائس چیئرپرسن بیگم مجیدہ وائیں‘ وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین کرنل (ر)جمشید احمد ترین‘سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ‘پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید‘ممتاز صحافی اور نظریہ ¿پاکستان فورم بلوچستان کے سرپرست سید فصیح اقبال‘ممتاز مسلم لیگی رہنما میاں فاروق الطاف‘ نظریہ پاکستان ٹرسٹ شعبہ خواتین کی کنوینر بیگم مہناز رفیع‘سیکرٹری شاہد رشید اور ایڈیشنل سیکرٹری رفاقت ریاض نے شرکت کی۔ مجید نظامی نے کہا میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ‘ پاکستان میں واحد ادارہ ہے جہاں دو قومی نظریہ اور نظریہ¿ پاکستان کی بات کی جاتی ہے ‘جہاں نوجوانوں کو بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کس نے بنایا اور قیامِ پاکستان کے مقاصد کیا ہیں۔ ہم نظریہ¿ پاکستان کو فروغ دے رہے ہیں۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ اس فرض کی ادائیگی کے لیے شب ور وز جدوجہد کر رہا ہے۔ انشاءاللہ یہ ادارہ تا قیامت قائم و دائم رہے گا کیونکہ یہ ادارہ پاکستان کی وجہ سے قائم ہوا ہے اور پاکستان تا قیامت قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ سابق وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں شہید نے قائم کیا تھا۔ یہ ادارہ میرا یا کسی فرد کا نہیں بلکہ یہ قوم کا ادارہ ہے۔ ایک برس کے دوران ہم نے اس ادارے کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ جوہر ٹاﺅن میں 44کنال کے رقبے پر ایوانِ قائداعظمؒ کے منصوبے کا سنگ بنیاد وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی رکھ چکے ہیں۔ ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان سے ملحقہ زمین پر وسیع و عریض ایوانِ نظریہ¿ پاکستان کے منصوبے کا سنگِ بنیاد وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے رکھ دیا ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر انشاءاللہ جلد کام شروع ہو جائے گا۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کی ملک گیر سرگرمیاں نظریہ¿ پاکستان فورمز کی شکل میں جاری ہیں۔ کراچی‘ پشاور اور کوئٹہ کے علاوہ تقریباً 21شہروں میں نظریہ¿ پاکستان فورمز قائم ہو چکے ہیں۔ مجید نظامی نے کہا کہ مسلم لیگ کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صرف مسلم لیگ ہی پاکستان کو قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کا پاکستان بنا سکتی ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے جو بھی ڈکٹیٹر آتا ہے وہ مسلم لیگ پر ہی شب خون مارتا ہے۔ اس کی ابتدا جنرل ایوب نے کی تھی۔ انہوں نے اپنی کنونشن مسلم لیگ بنا لی تھی۔ اس دوران ممتازدولتانہ صاحب نے بھی کونسل مسلم لیگ بنا لی۔ اس طرح مسلم لیگ کے تقسیم در تقسیم ہونے کا عمل شروع ہوا۔ اب سابق صدر پرویز مشرف کوشش کر رہے ہیں کہ وہ لندن سے واپس پاکستان آئیں اور اپنی مسلم لیگ بنا کر سیاست میں حصہ لیں لیکن میرا خیال ہے کہ وہ واپس نہیںآئیں گے۔ انہوں نے کہا‘ صرف مسلم لیگ ہی پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکال سکتی ہے بشرطیکہ وہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ والی مسلم لیگ بنے۔ میں نے مسلم لیگ کے اتحاد کے لیے بھر پور کوششیں کی تھیں۔ اسی ایوان میں میاں نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین تشریف لائے تھے اور پیر صاحب پگاڑا نے بھی اپنا پیغام ارسال کیا تھا کہ اگر مسلم لیگ متحد ہو گئی تو وہ بھی متحدہ مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں گے لیکن مسلم لیگ تا حال منقسم ہے۔ میں ایک سوال ان تمام سیاسی رہنماﺅں کے لیے چھوڑتا ہوں کہ وہ سوچیں کیا وہ واقعی مسلم لیگی ہیں اور مسلم لیگ کو پاکستان کی بڑی اور منظم سیاسی جماعت بنانا چاہتے ہیں جیسی وہ 14اگست 1947ءکو تھی؟یہی سوال میں آپ کے لیے اور مسلم لیگ سے پیار کرنے والوں کے لیے چھوڑتا ہوں۔ مشاہد حسین سید کوشش کریں کہ مسلم لیگ ایک ہو جائے۔ میاں برادران اور چوہدری برادران کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسلم لیگ کا تیا پانچہ کر کے پاکستان کو بحران میں مبتلا رکھیں۔ میاں صاحب کو مانسہرہ کے حالیہ انتخابات میں شکست ہوئی ہے۔ اگر وہ اپنے داماد کے بھائی کو اس حلقے کا ٹکٹ نہ دیتے تو شاید مسلم لیگ جیت جاتی۔ مجید نظامی نے کہا بلوچستان کی زمین بہت زرخیز ہے اگر ہم وہاں کا م کریں تو بہت مثبت نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ میں نواب اکبر خان بگٹی سے ان کے حجرے میں اور اس کے بعد جتوئی ہسپتال میں بھی مل چکا ہوں جہاں وہ زیر علاج تھے۔ میں قلات جا کر خان آف قلات سے بھی ملا۔ انہوں نے مجھ سے کہا براہِ کرم میرا ایک پیغام صدر جنرل ضیاءالحق تک پہنچا دیں‘ ہم نے اپنی ریاست پاکستان کے حوالے کر دی ہے لیکن یہاں کے لوگوں کے وظائف ادا کرتے ہوئے ہمارا خزانہ خالی ہو چکا ہے۔ ازراہِ مہربانی حکومت اس طرف توجہ دے‘ میں نے خان آف قلات کا پیغام صدر جنرل ضیاءالحق تک پہنچا دیا لیکن انہوں نے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا۔ انہوں نے کہا ہر آمر کا ایسا ہی رویہ ہوتا ہے‘ اسے ملک و قوم کی کوئی فکر نہیںہوتی۔ مجید نظامی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی میاں نواز شریف سے کسی وجہ کے باعث رنجش تھی۔ انہوں نے مجھے فون کیا کہ میں نواز شریف کے والد میاں شریف سے ملنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ ہم اکٹھے ان کے رائے ونڈ گھر گئے۔ یوں میں نے ان کی چپقلش ختم کروائی۔ انہوں نے کہا ایٹمی دھماکوں سے پہلے میاں نواز شریف نے اخبارات کے ایڈیٹروں کی میٹنگ بلوائی۔ میں نے انہیں کہا کہ اگر آپ ایٹمی دھماکہ نہیں کریں گے تو قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔ چنانچہ انہوں نے 28مئی کو دھماکے کر دئیے اور سب سے پہلے مجھے فون کر کے مبارک باد دی کہ ہم نے دھماکے کر دئیے ہیں۔ مجید نظامی نے کہا جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو نظر بند کیا گیا تو ہم نے ان کی رہائی کے لیے نوائے وقت میں روزانہ اشتہار دینا شروع کر دیا۔ اس حوالے سے حکومت نے ہم پر دباﺅ ڈالا کہ آپ اسے بند کر دیں ‘ہم نے کہا کہ آپ محسنِ پاکستان کو رہا کر دیں‘ہم اشتہار شائع کرنا بند کردیں گے۔ مجید نظامی نے کہا اس اشتہار کی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے لیکن جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان رہا ہوئے تو انہوں نے ہماری کاوشوں اور خلوص کا یہ صلہ دیا کہ ایک دوسرے اخبار میں کالم نویسی شروع کر دی۔ میں نے انہیں فون کر کے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ مجھے پیسوں کی ضرورت تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے فون کر لیتے۔ ان ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو چکا ہے۔ مجید نظامی نے کہا ان سے جدہ میں میاں نواز شریف سے ان کی جلا وطنی کے زمانے میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے شکوہ کیا کہ میں نے آصف علی زرداری کو مردِ حُر کا خطاب کیوں دیا؟ میں نے میاں نواز شریف سے کہا کہ آصف علی زرداری نے چونکہ طویل عرصہ جیل کاٹی ہے اور وہ اپنے مو¿قف سے پیچھے نہیںہٹے‘ اس لیے میں نے انہیں مردِ حُر کا خطاب دیا۔ اگر آپ بھی جلا وطن نہ ہوتے اور پاکستان کی جیل میں بند رہ کر حکومتی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرتے اور جدہ کے سرور پیلس میں سرور نہیں لے رہے ہوتے تو میں آپ کو بھی مردِ حُر کا خطاب دیتا۔ اُنہوں نے کہا مےں اپنے مردِ حُر سے کہوں گا کہ اب وہ ”نظرےہ¿ پاکستان کھپے“ کا بھی نعرہ لگائےں۔ مجید نظامی نے کہا کہ تین روزہ قومی نظریہ¿ پاکستان کانفرنس منعقد کرنے کا مقصد‘ قوم میں نظریہ¿ پاکستان کے وجود اور استحکام کی اہمیت اور ہماری اپنی شناخت کے حوالے سے بھر پور شعوری تحریک کو جاری رکھنا ہے تا کہ ہم ان شہداءکے سامنے سرخرو ہو سکیں جنہوں نے ہمارے پیارے وطن کے لیے بھاری قربانیاں دیں اور ہم ان مسلمانوں کے لیے بھی تقویت اور اعتماد کا باعث بن سکیں جو ہندوستان میں انتہا پسند ہندوﺅں کے رحم و کرم پر ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تین روزہ نظریہ¿ پاکستان کانفرنس میں شرکت کرنے والے محترم مندوبین پاکیزہ جذبوں کے ساتھ ساتھ قابل عمل ٹھوس تجاویز بھی لے کر آئیں گے تا کہ اہل ایمان کا قافلہ مزید استقامت اور استحکام کے ساتھ آگے بڑھتا رہے۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے بتایا کہ ہم نے تمام سرگرمیوں میں تین امور کو بنیادی حیثیت دی ہوئی ہے اول پاکستان کو جدید اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے قوم میں آگہی پیدا کرنا ۔ دوم قائداعظم محمد علی جناحؒ‘ علامہ محمد اقبالؒ اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے افکار کی روشنی میں نظریہ¿ پاکستان کی ترویج و اشاعت کرنا اور آخر میں نئی نسلوں میں قوم و ملک کے بارے میں احساس تفاخر پیدا کرنا اور ان کی تعلیم و تربیت کو اولین ترجیح قرار دینا ہے۔ ہم اپنی سرگرمیوں میں نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ شریک کرتے ہیں تا کہ انہیں معلوم ہو مشاہیرِ تحریکِ آزادی کون تھے‘ انہوں نے حصولِ پاکستان کے لیے کیا جدوجہد کی اور یہ کہ اب پاکستان کو دنیا کا عظیم ملک کس طرح بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظریہ¿ پاکستان کی سرگرمیوں کو دن بدن فروغ حاصل ہو رہا ہے اور اسی تناسب سے عوام الناس کی ہم سے وابستہ توقعات میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2008ءمیں ہونے والی دو روزہ نظریہ¿ پاکستان کانفرنس میں ملک کے تمام حصوں سے مندوبین نے شرکت کر کے نظریہ¿ پاکستان کی ترویج و اشاعت اور قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا عزم کیا۔ 2009ءنظریہ پاکستان کانفرنس اکتوبر میں منعقد ہونا تھی جس کے تمام انتظامات مکمل کرلیئے گئے تھے لیکن امن وامان کی مخدوش صورت حال کے باعث اسے ملتوی کردیاگیا۔ اب یہ کانفرنس 11فروری سے شروع ہورہی ہے جو بغیر کسی وقفے کے 13فروری تک جاری رہے گی۔انہوں نے بتایا کہ تین روزہ نظریہ¿ پاکستان قومی کانفرنس میں ملک بھر سے تحریک پاکستان کے کارکن‘ نظریہ¿ پاکستان فورمز کے عہدیداران‘ دانشور اور ماہرین تعلیم اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات پر مشتمل نمائندہ وفود ملک بھر سے شرکت کریں گے۔ کانفرنس کے کل دس سیشن ہوں گے جن میں قومی‘ فکری اور نظریاتی موضوعات پر فاضل مقررین سیر حاصل گفتگو کریں گے۔ کلیدی موضوع اسلامی فلاحی مملکت کا قیام ہے دیگر موضوعات میں ”پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کا احیاءکیسے ہو؟‘ پاکستان کی موجودہ صورتحال‘ مسائل اور ان کا حل‘ نظریہ¿ پاکستان کی روشنی میں قیامِ پاکستان سے اب تک کی سیاسی ‘ معاشی‘ قانونی پالیسیوں اور اقدامات کا جائزہ‘ فروغ تعلیم کے لیے ہماری ذمے داریاں حکومتی اقدامات اور اساتذہ کا کردار‘ خواتین کی تعلیم اور قومی ترقی‘ تحریکِ پاکستان میں علماءو مشائخ کے کردار اور مستقبل میں ذمے داریاں‘ حق خود ارادیت کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد اور الحاق پاکستان‘ پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات اورمستقبل کی توقعات‘ عظمتِ پاکستان تاریخ کے آئینے میں‘ نظریہ¿ پاکستان کو تقویت دینے والے عوامل اور بلوچستان ماضی‘حال اور مستقبل جیسے کلیدی موضوعات شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سیشن کھلے اجلاس کا منعقد ہو گا جس میں گروپوں کی شکل میں شرکائے کانفرنس اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں گے۔ 10گروپوں پر مشتمل ہر گروپ کو علیحدہ علیحدہ موضوع دیا جائے گا اور پھر ان سفارشات کو یکجا کیا جائے گا۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے عہدیداران و کارکنان اس قومی کانفرنس کے انتظامات کے لیے شب و روز مصروف عمل ہیں۔ سینئر وائس چیئرپرسن بیگم مجیدہ وائیں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی نیت صاف ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی بھر پور مدد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجید نظامی نڈر اور بے خوف ہو کر بات کرتے ہیں اور وہ نظریہ¿ پاکستان سے بے حد مخلص ہیں اس وجہ سے ان کے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہو جاتی ہے اور انشاءاللہ نظریہ¿ پاکستان کانفرنس کامیابی سے ہمکنار ہو کر ایک نئی تاریخ رقم کرے گی۔ کرنل (ر) جمشید احمد ترین نے کہا کہ یہ پاکستان قائداعظمؒ کا پاکستان ہے۔ اس کا استحکام اور ترقی اسی صورت ممکن ہے کہ اسے قائداعظمؒ کے فرمودات کے مطابق بنایا جائے۔ سید غوث علی شاہ نے کہا کہ میں نظریہ¿ پاکستان کے فروغ کے لیے کارہائے نمایاں سرانجام دینے پر مجید نظامی اور ان کے ادارے نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ ‘پاکستان کا قیام مشیت ایزدی تھا لیکن ہم اپنی نالائقی کے باعث اسے سنبھال نہ سکے اور 1971ءمیں اس کے دو ٹکڑے کر دئیے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے سندھ کے حالات خاصے خراب ہو چکے ہیں۔ ہمیں ہر حال میں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ 1971ءوالے حالات پھر سے جنم نہ لیں۔ موجودہ حالات میں صرف نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ ہی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وہ قوم کو نظریہ¿ پاکستان سے بھر پور آگہی فراہم کرتے ہوئے انہیں علاقائی اور صوبائی تعصب کے خول سے باہر نکال کر پاکستان کے لیے کام کرنے کا درس دے۔ نظریہ¿ پاکستان کانفرنس میں پورے سندھ سے مندوبین شرکت کریں گے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ مجید نظامی نے نظریہ¿ پاکستان کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو قوم قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ اور مشاہیر تحریکِ آزادی کو فراموش کر چکی ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نے قائم کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ جماعت اب متحد ہو کر استحکام پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ملی نغموں پر مشتمل دستاویزی فلمیں تیار کر کے تعلیمی اداروں کو دی جائیں۔ یہ فلمیں بچوں کو دکھائیں تاکہ ان میں پاکستان کے بارے میں احساس تفاخر پیدا ہو۔ اُنہوں نے پےشکش کی کہ اگر نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ گلگت اور بلتستان مےں نظرےہ¿ پاکستان فورمز کے قےام کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اس سلسلے مےں بھرپور معاونت فراہم کرنے کےلئے تےار ہےں۔ نظریہ¿ پاکستان کانفرنس کا انعقاد ملکی تاریخ میں اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے‘ قوم کے تمام طبقوں کو چاہیے کہ وہ اس کی کامیابی کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ سید فصیح اقبال نے کہا کہ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ غلام حیدر وائیں شہید نے قائم کیا تھا اور مجید نظامی نے اسے ایک تناور درخت بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجید نظامی کی شخصیت پورے پاکستان میں قابل احترام ہے۔ نواب اکبر بگٹی ان کا بے حد احترام کیا کرتے تھے اور انہیں محب وطن پاکستانی قرار دیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ روزنامہ نوائے وقت کی جو پالیسی 1940ءمیں تھی وہی آج بھی ہے۔ یہ بہت بڑا کارنامہ ہے۔ مجید نظامی کی زیر ادارت یہ اخباراستحکامِ پاکستان کے لیے بھر پور کردار ادا کررہا ہے۔ بلوچستان کے طلبہ گزشتہ برس جب نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کی دعوت پر لاہور آئے تو وہ بے حد متاثر ہوئے۔ ہم آئندہ بھی بلوچ طلبہ کو لاہور کے مطالعاتی دورے پر بھجواتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے اساتذہ کی نظریاتی تربیتی ورکشاپوں کا بھی انعقاد کیا جائے۔ بلوچ پشتون براہوی سب پاکستان سے محبت کرنے والے ہیں۔ بلوچوں کی پنجابیوں سے نفرت کا غلط پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے حالانکہ بلوچستان میں 40فیصد پشتون بھی آباد ہیں اور حالیہ شورش میں خود بلوچوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بلوچستان کے مختلف علاقوں کے طلبہ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کی دعوت پر لاہور آئے تھے اسی طرح تمام علاقوں سے لوگ نظریہ¿ پاکستان کانفرنس میں شریک ہو کر وطن عزیز پاکستان سے اپنی محبت کا عملی مظاہرہ کریں گے۔ میاں فاروق الطاف نے کہا کہ نظریہ¿ پاکستان کا کارواں تیزی سے منزل کی جانب بڑھ رہا ہے اور مجید نظامی اس کے سالار اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ کی سرگرمیاں ملک بھر میں پھیل رہی ہیں حتیٰ کہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے فرمائش کی ہے کہ انہیں نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کا لٹریچر فراہم کیا جائے۔ بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ ہمیں تمام تر ذاتی اور گروہی و سیاسی اختلافات و تعصبات سے بالا تر ہو کر نظریہ¿ پاکستان کانفرنس کی کامیابی کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ اس کا انعقاد پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اور قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مادرِ ملتؒ ایوارڈز کا اجرا بند کر دیا ہے۔ ٹرسٹ کو چاہیے کہ وہ ہر سال مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے یومِ پیدائش پر ان ایوارڈز کا اجرا کرے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سڑکوں اور دیگر سرکاری ادارں کے نام سیاستدانوں کے ناموں پر رکھنے کی بجائے صرف اور صرف مشاہیر تحریکِ آزادی کے نام پر رکھے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یادگار گمنام شہدائے تحریکِ پاکستان کی تعمیر ایک نہایت اہم کارنامہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بیرونی ممالک کے مندوبین کو اس یادگار کے دورے پر لائے تا کہ وہ ہماری شاندار تحریک آزادی سے آگاہ ہوںاور گمنام شہدائے تحریک پاکستان کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا جا سکے۔ ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 13-12-11فروری کو ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان‘ لاہور میں منعقد ہونے والی نظریہ¿ پاکستان کانفرنس قومی یکجہتی کا مظہر ہو گی ۔ کانفرنس میں کارکنانِ تحریکِ پاکستان ٹرسٹ کے عہدیداران‘ دانشور ماہرین تعلیم اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات پر مشتمل نمائندہ وفود ملک بھر سے شرکت کریں گے۔ کانفرنس کی دس نشتیں ہوں گی جبکہ گروہی مباحث کے لیے دس گروپ تشکیل دئیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے انتظامات کے لیے متعدد کمیٹیاں قائم کی گئیں ہیں جو انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری رفاقت ریاض نے اجلاس کو بتایا کہ کانفرنس کے مختلف امور کی انجام دہی کے لیے سپانسرشپ حاصل کی جارہی ہیں تا کہ ٹرسٹ پر اخراجات کا بوجھ کم سے کم ہو۔ ایک ہزار سے زائد مندوبین کی شرکت متوقع ہے۔
مجید نظامی