پنجاب اسمبلی : کشمیریوں اور ڈاکٹر عافیہ سے اظہار یکجہتی سمیت 4 متفقہ قراردادیں

لاہور (خبرنگار خصوصی+ سپیشل رپورٹر) پنجاب اسمبلی میں کشمیریوں اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے اظہار یکجہتی‘ حضرت امام حسینؓ کو خراج عقیدت پیش کرنے سمیت 4قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلی گئیں‘ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے تین قراردادیں متفقہ طور پر پیش کی گئیں جبکہ بی بی پاکدامن کے مزار کے حوالے سے قرارداد فنکشنل لیگ کی رکن عاصمہ ممدوٹ نے پیش کی۔ اجلاس پیر کی سہ پہر 3بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق رانا ثناءاللہ نے یوم کشمیر پر قرارداد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایوان مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری کشمیری بھائیوں کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت کا پھر اعادہ کرتا ہے۔ ایوان اقوام متحدہ کی 13اگست 1948ءاور 5جنوری 1949ءکی قراردادوں میں فی الفور عمل درآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان قراردادوں کی روشنی میں ریاست جموں و کشمیر میں فوری طور پر استصواب رائے کرایا جائے‘ فوری ریاست سے فوجوں کا انخلا کیا جائے اور کشمیری عوام پر جاری مظالم کو بند کیا جائے‘ عالمی برادری کشمیریوں کی بھرپور سیاسی‘ اخلاقی اور سفارتی حمایت کرے‘ کشمیری بھائیوں کو ایک بار پھر یقین دلاتا ہے کہ پوری پاکستانی قوم حق خودارادیت کے حصول تک ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ دوسری قرارداد کے مطابق ایوان ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے‘ اُمید ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے کیس میں انصاف کے تقاضوں کو بلاامتیاز اور بلاتفریق پورا کیا جائے گا‘ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سفارتی سطح پر اس معاملے کو پاکستانی عوام کے جذبات اور احساسات کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرے اور ڈاکٹر عافیہ کو ہرممکن قانونی اور سفارتی تعاون فراہم کرے‘ ایوان اُمید کرتا ہے کہ انسانی حقوق اور انصاف کے دعویدار ملک امریکہ میں اس کے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سب سے بڑے اتحادی ملک پاکستان کی بیٹی کے ساتھ بھی انصاف ہو گا۔ تیسری قرارداد میں کہا گیا کہ نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ کے چہلم کے موقع پر اسلام کے اس سب سے عظیم شہید کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتا ہے‘ سامراجی قوتوں کے سامنے ڈٹ جانا‘ اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنا اور قربانی کی لازوال مثال قائم کرنا حسینیت کا وہ خوبصورت درس ہے جو تاقیامت تمام مسلمانوں کے لئے ایک قابل تقلید راہ عمل کا سب بنتا رہے گا۔ چوتھی قرارداد میں عاصم ممدوٹ نے کہاکہ محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق بی بی پاکدامن کے مزار کیلئے مختص 72کنال رقبہ کو ناجائز قابضین سے واگزار کرکے میگاپراجیکٹ کے طور پر حضرت بی بی پاک دامن کے شایان شان نہ صرف مقبرہ تعمیر کیا جائے‘ اندرون اور بیرون ملک سے آنے والے زائرین کی سہولیات کے لئے باعزت سہولیات میسر کی جائیں‘ تمام قراردادوں کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ قبل ازیں قرارداد پر بحث کے دوران چودھری ظہیر الدین نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہم کشمیر پر مﺅقف تبدیل کرتے جا رہے ہیں‘ یہ عالم اسلام کی ڈپلومیٹک ناکامی ہے کہ وہ آج تک کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے کچھ نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ایٹم بم شب برات پر چلانے کے لئے نہیں بنایا تھا اگر ضرورت پڑی تو کشمیریوں کی آزادی کے لئے اس کا استعمال بھی کر دیں گے۔ شیخ علاﺅ الدین نے کہاکہ امریکہ بھارت کو کبھی نہیں کہے گا کہ وہ کشمیر کے مسئلہ کو حل کر دے۔ خدا کے لئے امریکہ بدمعاش کے سامنے آ جائیں اور کہہ دیں کہ ڈاکٹر عافیہ اور اس کے بچے نہیں بلکہ ہم سب مریں گے۔ زعیم قادری نے کہاکہ قائداعظم کا یہ بیان کہ کشمیر شہہ رگ ہے‘ پاکستان کا پانی بند ہونے کے بعد سچ ثابت ہو گیا۔ اجلاس کے آغاز پر ارکان نے مختلف سلگتے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کو کہا اشرف کائرہ نے دیہی علاقوں میں پبلک ہیلتھ کی سکیموں کے فنڈز بلاک کرنے کے حوالے سے کہا کہ اس پر حکومت نظرثانی کررہی ہے جس پر فیصلہ جلد ہوگا۔ سعید اکبر خان اور ناظم حسین شاہ نے کہاکہ جو جیسا اسلحہ چاہے حکومت کو اسے ویسے اسلحہ کیلئے لائسنس دینا چاہئیں۔ شیخ علاﺅ الدین نے محکمہ ایکسائز کی کارکردگی اور ان کے طرزعمل پر تنقید کی اور کہا کہ کروڑوں روپے کی شراب 30 جون کی رات کو اِدھر اُدھر کرلی جاتی ہے‘ یہ کہاں جاتی ہے‘ میرے پاس سارا ریکارڈ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پر ایوان کے اندر بحث ہونی چاہئے کہ یہ سارا دھندا کون کررہا ہے اور کیونکر کیا جاتا ہے؟ خواجہ عمران نذیر نے سیوریج کا ڈھکن نہ ہونے پر ایک بچے کی ہلاکت پر توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے واضح احکامات کے باوجود اس مجرمانہ غفلت پر ایم ڈی اور ڈی ایم ڈی واسا سے جوابدہی ہونی چاہئے۔
پنجاب اسمبلی