لاہور ہائیکورٹ میں ججوں کی تقرری کیلئے فہرست گورنر ہاﺅس ہی میں رہ گئی‘ صدر کو نئے نام بھجوا دیئے گئے

لاہور (محمد ثقلین جاوید) لاہور ہائیکورٹ میں نئے جج صاحبان کی تقرری کا معاملہ بعض ناگزیز وجوہات کے باعث تاحال ”کھجور میں اٹکا“ ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کے وکلاءکی طرف سے گورنر پنجاب کو بھجوائی گئی ججوں کی نئی تقرریوں کےلئے ناموں کی فہرست پر طویل اعتراضات کے بعد 6 نام شامل کرنے کےلئے فہرست براہ راست ایوان صدر بھجوا دی ہے جبکہ پہلی فہرست گورنر ہاوس میں کہیں اٹک کر رہ گئی ہے۔ عدالت عالیہ میں ججوں کی تعداد میں کمی کے باعث زیر التواءمقدمات کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ کے علاوہ سائلین شدید ترین مشکلات کا شکار ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ میں نئے ججوں کی تقرری کا معاملہ بھی سیاست اور بیوور کریسی کے تاخیری حربوں کے باعث مسلسل تاخیر کا شکار ہے جس سے ایک طرف اعلی عدلیہ میں ججوں کی کمی کے باعث قومی جوڈیشل پالیسی پر عمل درآمد ناممکن ہو کر رہ گیا ہے اور کام کے بوجھ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف سیاسی بنیادوں پر بعض حلقوں نئے ججوں کےلئے بھجوائی جانےوالی ناموں کی فہرست پر بھی شدید اعتراضات شروع کردئیے ہیں۔ وکلاءنمائندوں اور تنظیموں کی طرف سے جلد از جلد نئے ججوں کی تقرری کے مطالبات کئے جارہے ہیں تو پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاءکی طرف سے اس فہرست میں اپنے وکلاءکو بھی شامل کرنے کے مطالبات کئے جا رہے ہیں جن میں شفقت محمود چوہان‘ شاہد کریم‘ میاں شاہد اقبال‘ محمد فخر عرفان خان‘ ماموں الرشید‘ شوکت عمر پیرذادہ‘ وقار حسن میر‘ گلزار بٹ‘ محمد یاور علی‘ خالد محمود خان‘ شعیب سعید‘ انور بھور‘ عدالستار اصغر‘ ندیم ثقلین‘ اعجاز احمد خان‘ شمیم احمد خان‘ حسن رضا پاشا‘ سید مظاہر علی نقوی اور شیخ احمد فاروق کے نام شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ فہرست تاحال گورنر ہاوس میں کہیں رکی ہوئی ہے جس کی تصدیق وفاقی حکومت کے ذمہ دار ذرائع کی جانب سے بھی کی گئی ہے کہ یہ فہرست ابھی پائپ لائن میں ہے ۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے وکلاءکی طرف سے مذکورہ بالا 20 ناموں پرمشتمل ناموں کی فہرست پر اعتراضات کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کو بتایا گیا ہے کہ اس فہرست میں 6نام ایک اعلی صوبائی عدالتی شخصیت کی طرف سے ہیں ¾4نام ایک معروف قانون دان اور وکیل رہنماءکے پسندیدہ افراد ہیں ¾2نام مسلم لیگ ن صوبائی حکمران جماعت کی طرف سے آئے ہیں ۔ایک نام وکلاءتنظیم کے عہدیدار کی طرف سے اور ایک سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی طرف سے شامل کروایا گیا تھا ۔جس میں پیپلز پارٹی کے وکلاءکو نظر انداز کیا گیا ہے جس پر ان کی طرف سے بھی 20 ناموں کی ایک فہرست دی گئی ہے جس میں6 نام لاہور ہائیکورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے اور 14نام دیگر خصوصی عدالتوں میں تقرر کے لئے بھجوائے گئے ہیں ۔لاہورہائیکورٹ کےلئے بھجوائے جانے والے ناموں میں میاں محمد حنیف طاہر‘ الیاس خان‘ جیب اللہ شاکر‘ افتخار شاہد‘ ملک محمد جمیل اعوان اور میاں عباس احمد کے نام اور خصوصی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کےلئے رانا ابرار احمد خان‘ شاہد حسن کھوکھر‘ سید نوید الحسن‘ الیاس ریحان‘ راﺅ عبدالغفار‘ فرخ ریاض ¾فاروق احمد خان‘ ملک شفقت محمود‘ آفتاب احمد زیدی‘ رانا عبدالرحمن اور دیگر کی سفارش کی گئی ہے ۔
ہائیکورٹ جج/ تقرری تاخیر