نقشہ فیس کا اختیار ختم ہونے سے 9 ٹاﺅنز کو 6 کروڑ 50 لاکھ کا نقصان

لاہور (شعیب الدین سے) ڈی سی او لاہور کی طرف سے لاہور کے 9 ٹاونز سے نقشہ فیس کی منظوری کے اختیارات واپس لینے اور لاہور کو 14 سیکٹروں میں تقسیم کر کے کمرشل و رہائشی تمام نقشوں کی منظوری کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینے سے لاہور میں غیر قانونی تعمیرات کی بھرمار ہو گئی اور لاہور کے مالی مسائل سے دوچار ٹاونز کی انتظامیہ کو ساڑھے چھ کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ گیا۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے ٹاونز نے تعمیراتی فیس کم ہونے اور کمرشلائزیشن پر پابندی کے بعد گذشتہ مالی سال کے دوران اپنا ٹاون پلاننگ فیس کا ٹارگٹ کم رکھا تھا مگر اس کے باوجود ٹاونز کو 8کروڑ 55 لاکھ روپے آمدن متوقع تھی‘ جس میں سے ٹاونز نے صرف 10 دن میں یعنی 11 جولائی 2009ءتک ایک کروڑ 10 لاکھ 22 ہزار روپے اکٹھے کر لئے تھے۔ 11 جولائی کو ڈی سی او لاہور سجاد احمد بھٹہ نے ٹاونز سے نقشہ منظوری کا اختیار چھین کر اپنے ہاتھ میں لے لیا جس کے بعد لاہور میں غیر قانونی تعمیرات کی بھرمار ہو گئی ا ور گیارہ مہینے 20 دن میں ضلعی حکومت صرف ایک کروڑ 93 لاکھ 60 ہزار روپے اکٹھے کر سکی۔ اس طرح ساڑھے چھ کروڑ سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑ گیا۔ گذشتہ سال سب سے زیادہ ٹارگٹ اقبال ٹاون نے 2 کروڑ 30 لاکھ روپے مقرر کیا تھا جس میں سے 10 دن میں 46 لاکھ روپے اکٹھے بھی کر لئے گئے تھے۔ واہگہ ٹاون نے 10 دن میں 35 لاکھ کے ٹارگٹ میں سے 17 لاکھ‘ نشتر ٹاون نے ایک کروڑ 80 لاکھ روپے کے ٹارگٹ میں سے 7 لاکھ‘ راوی ٹاون نے ایک کروڑ میں سے 10 لاکھ‘ گلبرگ ٹاون نے 30 لاکھ ٹارگٹ میں سے 12 لاکھ 34 ہزار 7600‘ داتا گنج بخش ٹاون نے ایک کروڑ میں سے 16 لاکھ‘ عزیز بھٹی ٹاون نے 50 لاکھ میں سے 31 ہزار 145‘ شالامار ٹاون نے 75 لاکھ میں سے ایک لاکھ 57 ہزار اکٹھے کئے جبکہ سمن آباد ٹاون نے 55 لاکھ میں سے ایک دھیلہ بھی اکٹھا نہیں کیا۔ ضلعی حکومت قانونی طور پر اکٹھے کئے۔ ایک کروڑ 93 لاکھ 63 ہزار میں سے صرف 15 فیصد (کولیکشن فیس) اپنے پاس رکھ کر باقی رقم ٹاون کو دینے کی پابند تھی مگر وہ رقم بھی نہیں دی گئی۔ دریں اثنا باوثوق ذرائع کے مطابق گذشتہ روز ڈی سی او لاہور سجاد احمد بھٹہ نے نقشوں کی منظوری کا اختیار خود پاس رکھنے کی بجائے چیف انجینئر (ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر ورکس اینڈ سروس) اور ڈسٹرکٹ آفیسر بلڈنگز کو سونپ دیا جبکہ ڈی او سپیشل پلاننگ رپورٹ تیار کر کے دیں گے۔