محکمہ ایکسائز کی 50 گاڑیاں بغیر رجسٹریشن کے جعلی نمبر پلیٹوں کے ساتھ سڑکوں پر رواں

لاہور (احسان شوکت سے) نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ فراہم کرنے والا محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب خود گذشتہ دو ماہ سے بغیر رجسٹریشن کے جعلی نمبر پلیٹس لگا کر 50 گاڑیاں چلا رہا ہے۔ ان گاڑیوں کو ایل ای جی۔10 سیریز کی جعلی نمبر پلیٹیں بنوا کر 512-510-504-560-511-777 جیسے نمبر لگا کر چلایا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ ایکسائز کو گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی کے لئے جون میں 50 نئی ڈالہ گاڑیاں فراہم کی گئی تھیں مگر محکمہ ایکسائز جس کا کام شہریوں کی گاڑیاں رجسٹرڈ کر کے کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس فراہم کرنا ہے لیکن خود اس محکمے نے دو ماہ گزرنے کے باوجود تاحال ان 50 گاڑیوں کی رجسٹریشن نہیں کی اور الٹا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے ان گاڑیوں پر جرمنی سے درآمد شدہ کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس کی جگہ پینٹر سے جعلی نمبر پلیٹس بنوا کر لگا لیں۔ ان گاڑیوں کے نمبروں پر کسی بھی گاڑی کی رجسٹریشن کا ریکارڈ محکمہ ایکسائز کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں ہی موجود نہیں۔ قانون کے مطابق بغیر رجسٹریشن کے کوئی گاڑی سڑک پر نہیں لائی جا سکتی مگر محکمہ ایکسائز نے ان 50 گاڑیوں میں سے 17 کے قریب لاہور جبکہ باقی دیگر اضلاع میں ایکسائز دفاتر کو بھجوا دی ہیں جن پر جعلی نمبر پلیٹس لگی ہوئی ہیں۔ ان گاڑیوں میں سوار محکمہ ایکسائز کا عملہ دیدہ دلیری سے ٹوکن ٹیکس نادہندہ اور بغیر رجسٹریشن عام شہریوں کی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاون کر رہا ہے اور انہیں جرمانے، کاغذات اور گاڑیوں کی ضبطگی کی سزائیں دے رہا ہے۔ اگر کوئی شہری 60 دن سے 120 دن کے درمیان نئی گاڑی رجسٹرڈ نہ کرائے تو اسے رجسٹریشن فیس پر 125 فیصد جرمانہ، 120 دن سے 240 دن تک 150 فیصد جبکہ 240 دن سے زائد رجسٹریشن کرانے والے عام شہری کو 2 سو فیصد جرمانہ کیا جاتا ہے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ محکمہ ایکسائز کی طرف سے اخبارات میں اشتہارات شائع کرائے جا رہے ہیں کہ دہشت گردی کے موجودہ حالات میں شہری گاڑی کی جلدازجلد رجسٹریشن کرائیں تاکہ کوئی گاڑی کا غلط استعمال نہ کر سکے مگر خود محکمہ پر گاڑیاں جن کا دہشت گردی میں استعمال کا سب سے زیادہ خطرہ ہے، کو بغیر رجسٹریشن اور ریکارڈ کے چلا رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ ایکسائز کے پاس رجسٹریشن کے لئے رقم نہیں ہے اور ہر گاڑی پر 35 ہزار کے قریب رجسٹریشن فیس لگے گی۔ 50 گاڑیوں کے حساب سے 18 لاکھ کے قریب رقم درکار ہے۔ ماضی میں دو سال قبل محکمہ کو چار گاڑیاں ملی تھیں تو محکمہ ایکسائز کے افسران نے ماتحت عملہ کی ڈیوٹیاں لگائی تھیں کہ وہ خود اپنی مدد آپ کے تحت اپنی ”خصوصی کمائی“ میں سے پیسے ملا کر گاڑیاں رجسٹرڈ کرائیں جس پر موٹر برانچ اور دیگر پُرکشش سیٹوں پر تعینات عملہ نے پیسے اکٹھے کرکے ان گاڑیوں کو رجسٹرڈ کرایا۔ اب گاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ اور افسران کے لئے ماضی کی روایت سے کام چلانا مشکل ہے جبکہ ان گاڑیوں کیلئے محکمہ کے پاس 50 ڈرائیور بھی نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ ایکسائز ان گاڑیوں کی محکمہ ٹرانسپورٹ سے پاسنگ لیٹ کرائے گا تاکہ گذشتہ سال کا ٹوکن ٹیکس بھی ادا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ ان گاڑیوں کا فائدہ کوئی عملاً بھی نہیں ہو رہا کیونکہ ان کے کیبن بنوانے کیلئے بھی فی گاڑی ایک لاکھ روپے درکار ہیں اور اس کے بغیر اہلکاروں کیلئے اس میں سفر ممکن نہیں ہے۔