سیشن جج لاہور کی تبدیلی کے مطالبے پر وکلا میں واضح اختلافات

لاہور (ایف ایچ شہزاد سے) سیشن جج لاہور کے تبادلے پر وکلا میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز احمد چودھری کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے رو بروسیشن جج لاہور زوار احمد شیخ کو تبدیل کرنے کے لاہور بار کے مطالبے کی واضح مخالفت کرتے ہوئے ہمارا ہائی کورٹ بار کے سابق صدر نصرت جاوید باجوہ نے موقف اختیار کیا کہ محض بار کے مطالبے پر ججوں کے تبادلے اور تعیناتیاں نہ کی جائیں۔ انتہائی ایماندار اور قابل جج پر ان نمائندوں کی طرف سے وکلا کے ساتھ غلط رویہ اختیار کرنے کا الزام لگانا انتہائی افسوس ناک ہے جن کا اپنا رویہ ہی مناسب نہیں۔ اس رائے کو اجلاس میں موجود پنجاب بار کونسل کے دو ممبران کے علاوہ ہائی کورٹ بار کے سابق سیکرٹری خواجہ اعجاز نے بھی درست قرار دیا۔ کمیٹی کے ابتدائی اجلاسوں میں ضیاءاللہ منج ایڈووکیٹ اور کچھ سینئر وکلاءبھی ماتحت عدلیہ کے حق میں رائے دے چکے ہیں جس کے بعد اس معاملے پر وکلا میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ گذشتہ روز لاہور بار کے نمائندوں کی جانب سے کمیٹی کے روبرو پیش کی گئیں۔ بعض سفارشات حیران کن تھیں۔ لاہور بار کے صدر ساجد بشیر شیخ نے سیشن جج زوار احمد کے تبادلے کے ساتھ دیگر 6 ججوں کا نام لے کر کہا کہ ان کی تعیناتی لاہور میں نہ کی جائے کیونکہ ان کا رویہ بھی وکلا کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے جبکہ کمیٹی کی طرف سے بلائے گئے بعض سینئر وکلا نے لاہور بار کے ان مطالبات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور بار کی طرف سے جن ججوں کو لاہور میں تعینات نہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے وہ سب ایماندار اور اقربا پروری کے انتہائی خلاف ہیں۔ جسٹس اعجاز احمد چودھری کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے اجلاس میں پنجاب بار کے تقریباً 10 ارکان نے بھی شرکت کی۔ آج کمیٹی کے روبرو ماتحت عدلیہ کی طرف سے اپنا موقف پیش کیئے جانے کا امکان ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق کمیٹی چند روز میں اپنی سفارشات چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوا دے گی۔ اجلاس میں بعض وکلا کی طرف سے لاہور بار کے موقف کی مخالفت کی تصدیق کرتے ہوئے بار کے سیکرٹری شکیل گوندل نے روزنامہ نوائے وقت کو بتایا کہ بعض وکلا مخصوس ایجنڈے کے تحت سیشن جج لاہور کے تبادلے کے مطالبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔