چوڑیاں تیار کرنیوالی لاکھوں خواتین عید پر بھی خوشیوں سے محروم

لاہور(رفیعہ ناہیداکرام)خواتین کی عیدکی خوشیوںکودوبالاکرنے کیلئے کانچ کی دیدہ زیب رنگارنگ چوڑیاںتیارکرنے والی لاکھوں عورتیںدن رات  سخت محنت کے باوجودقلیل اجرت کے باعث عید کے موقع پربھی خوشیوںسے محروم رہیں گی۔ تنگ وتاریک سیلن زدہ کمروںمیںرات رات بھربیٹھ کر چوڑی سازی کے مشکل ترین کام کے 60سے زیادہ مراحل سے گزرنے کے باوجود تہواروںپربھی انہیں آسودگی میسر نہیںہوتی  اوروہ عمربھی غربت کی جنگ لڑتی رہتی ہیں، کیمیکلزکے مہلک اثرات کے باعث بیماریوںنے انکاگھردیکھ لیاہے ، بھٹیوںپرآگ کے سامنے کام کرنے کی وجہ سے انکے ہاتھ پاؤں جل جاتے ہیں مگر انہیں علاج کی کوئی سہولت میسر نہیں،وہ قانونی تحفظ سے بھی محروم ہیں۔ نوائے وقت سے گفتگومیں چوڑی سازی کی صنعت سے وابستہ خواتین اسمائ، زاہدہ اور یاسمین نے بتایاہم سالہاسال سے یہ کام کررہی ہیںمگرگھریلوحالات میں کوئی بہتری نہیں آئی ہم عیدپراپنی تیارکی ہوئی چوڑیاںپہن تولیتی ہیں مگر ہمارے بچے ایک ایک بوٹی کوترستے ہیں توچوڑیوںکی کھنک بھی زہرلگتی ہے۔شازیہ اور نرگس نے کہا ایک مسئلہ ہوتوبتائیں، ٹھیکیدار ہمیں کچھ نہیں دیتااورہماری تیارکردہ چوڑیوںسے اپنے خزانے بھرتارہتاہے، آپ عید کی بات کرتی ہیں ہمارے گھرتومرنیوالے کی تجہیزوتکفین کیلئے پیسے نہیں ہوتے۔ خواتین ہوم بیسڈورکرزکی تنظیم ہوم نیٹ پاکستان کی پروگرام آفیسرز ماریہ کوکب اور آفرین فاطمہ نے بتایا چوڑی سازی صنعت ضرور ہے مگر گھرپرکام کی وجہ سے ان خواتین کوورکرتسلیم نہیں کیاجاتاجب تک مؤثرقانون سازی نہیں ہوگی یہ بنیادی حقوق سے محروم رہیں گی۔