لاہور گنگارام ہسپتال میں مردہ بچہ تبدیل ورثا کا ہنگامہ‘ لیڈی ایچی سن سے نومولود اغواء

لاہور (نیوز رپورٹر) گنگارام ہسپتال ایمرجنسی میں انتظامی غفلت کے باعث مردہ بچہ تبدیل ہونے کے باعث ہنگامہ کھڑا ہو گیا جبکہ لیڈی ایچی سن میں نامعلوم خاتون 3 روز کا بچہ اغوا کر کے غائب ہو گئی۔ ایم ایس گنگارام نے ڈیوٹی پر موجود ہیڈ نرس سمیت 5 ملازمین و دیگر کو فوری طور پر معطل کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق گنگارام ہسپتال ایمرجنسی میں سمن آباد کی رہائشی خاتون صبا اور ایک دوسری زچہ رخسانہ کے ہاں تقریباً 12 بجے کے قریب مردہ بچوں کی پیدائش ہوئی۔ ہسپتال میں موجود آیا نے خاتون صبا کے ہاں پیدا ہونے والا مردہ بچہ رخسانہ کے ورثاء کے حوالے کر دیا جب اس بات کا علم نومولود بچے کے والد عقیل احمد اور لواحقین کو ہوا تو انہوں نے شور مچایا ان کا بچہ اغوا ہو گیا اور ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ انہوں نے ہسپتال کی ایمرجنسی میں گھس کر شیشے توڑ ڈالے عملہ کو زدوکوب کیا اور پولیس سے بھی ہاتھا پائی کی۔ اس دوران ایم ایس ڈاکٹر عمر فاروق بلوچ اور اے ایم ایس ایڈمن ڈاکٹر وقار شاہ بھی موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے پولیس حکام کے ساتھ ملکر صورتحال کو کنٹرول کیا اور بعدازاں مردہ بچہ واپس منگوا کر لواحقین کے حوالے کیا جس کے بعد احتجاج کرنے والے مطمئن ہو گئے۔ اس موقع پر بچے کے والد عقیل احمد نے کہا ہسپتال کے لیبر روم میں ہر آنے جانے والے کو کھلی چھٹی ملی ہے جس کی وجہ سے آئے روز نومولود بچے اغوا ہو رہے ہیں جبکہ اس موقع پر ایم ایس کی جانب سے ڈیوٹی پر موجود پانچ ملازمین ہیڈ نرس نعیمہ ناہید، سٹاف  نرس عصمت جہاں، آیا روبینہ یاسین اور سویپریس ساجدہ اور شمیم کو فوری طور پر معطل کر کے انکوائری شروع کر دی گئی۔ دوسرا واقعہ لیڈی ایچی سن ہسپتال میں ہوا جہاں نارووال کی خاتون سمیعہ کے ہاں 3 روز قبل بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس دوران ایک نامعلوم خاتون زچہ کی تین روز خدمت کرتی رہی کبھی چائے پلاتی اور کبھی ادویات میڈیکل سٹور سے لا کر دیتی۔ ماں باپ کا اعتماد جیتنے کے بعد وہ خاتون بچے کو لے کر غائب ہو گئی۔ ایم ایس لیڈی ایچی سن ڈاکٹر وقار نبی باجوہ کا کہنا تھا انتظامیہ کی طرف سے کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں برتی گئی۔ ہم نے بچہ ماں باپ اور رشتہ داروں کے حوالے کر دیا تھا ہماری طرف سے مکمل انتظام تھا۔ اغوا کار خاتون خود ہی گھل مل گئی تھی ماں باپ اور رشتے داروں کی لاپرواہی سے واقعہ پیش آیا۔ اس کی انکوائری کی جا رہی ہے۔
مردہ بچہ تبدیل