دہشت گردی کا خطرہ، متعدد وی وی آئی پیز کو عید گاہوں میں نماز پڑھنے سے روکدیا گیا

لاہور (معین اظہر سے) دہشت گردوں کی طرف سے وی وی آئی پی، وی آئی پی ارکان اسمبلی کو عید گاہوں میں ٹارگٹ کرنے کی اطلاعات کے بعد متعدد وی وی آئی پی کو عید گاہوں میں عید کی نمازیں پڑھنے سے روکدیا گیا ہے جبکہ پنجاب میں عید کی نماز 12 ہزار 128 جگہوں ادا کی جائیگی 248 جگہوں کو حساس ترین قرار دے دیا گیا ہے جبکہ709 کو کیٹگری اے، 1543 کو کیٹگری بی، 9879 کو کیٹگری سی میں رکھا گیا ہے۔ 47 مقامات پر وی وی آئی پی وی آئی پی کی طرف سے عید کی نمازیں پڑھنے کی وجہ سے وہاں پر 1370 افراد سکیورٹی دیں گے، 36 سنائپر ڈاگ ٹیم اور 47 واک تھرو گیٹ لگائے جارہے ہیں۔ 600 عید کے اجتماعات کھلی جگہوں باغوں میں ہونگے۔ وزیر اعلی پنجاب کو ایک حساس ادارے کی طرف سے پنجاب میں عید الاضحٰی کے موقع پر دہشت گردی کے حوالے سے رپورٹ موصول ہوئی جس پر وزیراعلی پنجاب نے آئی جی پنجاب کو ضروری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ وزیر اعلی سیکرٹریٹ سے رپورٹ کی جو کاپی ملی اس میں کہا گیا ہے آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے عید کی نماز کے اجتماعات اہم ٹارگٹ ہو سکتے ہیں۔ جہاں ارکان قومی و صوبائی اسمبلی جائیں گے دہشت گردوں کیلئے وہ جگہیں سافٹ ٹارگٹ ہو سکتی ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں نے کہا ہے عید پر فوج، پولیس، مساجد، عید اجتماعات، امام بارگاہیں، دربار، دہشت گردوں کے ٹارگٹ ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان جگہوں پر زیادہ سخت سکیورٹی کے بعد دہشت گرد بازاروں، مارکیٹوں، بکرا منڈیوں کو ٹارگٹ کر سکتے ہیں۔ جس پر انٹیلی جنس ایجنسی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ پولیس کو کہا جائے مساجد کی انتظامیہ سے ملکر پرائیویٹ طور پر واک تھرو گیٹ عید گاہوں پر لگائے جائیں۔ سول ڈیفنس کے عملہ سے عید گاہوں کی سرچ عید کی نماز سے ایک گھنٹہ پہلے کی جائے۔ جن افراد کو انسداد دہشت گردی کے شیڈول 4 کے تحت رکھا گیا ہے ان کی سخت نگرانی کی ہدایات بھی کر دی گئی ہیں کہا گیا کہ خصوصی نظر رکھی جائے۔ تمام بین جماعتوں، انتہا پسند تنظیموں کو عید پر کھالیں، چندہ جمع کرنے سے روکا جائے کیونکہ اس سے عالمی سطح پر بدنامی ہوتی ہے۔ پنجاب کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔