دھرنے اور جلوس جمہوری عمل کا حصہ ہے، نوازشریف کو ماننا پڑیگا میری نااہلی کا فیصلہ غلط تھا، گیلانی

دھرنے اور جلوس جمہوری عمل کا حصہ ہے، نوازشریف کو ماننا پڑیگا میری نااہلی کا فیصلہ غلط تھا، گیلانی

لاہور (خبرنگار) سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جلسے، جلوس اور دھرنے جمہوری عمل کا حصہ ہیں، کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے، دھرنے اور احتجاج عوام کا جمہوری حق ہے، وفاق کو صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ وہ بلاول ہائوس میں اجلاس کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس موقع پر سابق گورنر سردار لطیف کھوسہ بھی موجود تھے۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا بلدیاتی انتخابات صوبائی معاملہ ہے، وفاق کی اس میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے، بلدیاتی انتخابات کو شیڈول 6 سے نکال کر صوبوں کو دیا تھا، اب صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کرائیں۔ ملک پر سب سے طویل عرصہ حکمران رہنے والے آمر مطلق جنرل ضیاء الحق نے 1985ء میں غیرجماعتی انتخابات کرائے تھے اب 29 سال بعد ملتان میں غیرجماعتی الیکشن ہورہا ہے۔ مسلم لیگ (ن)، پی ٹی آئی سب خود الیکشن لڑنے کی بجائے امیدواروں کو ’’سپورٹ‘‘ کر رہی ہیں، صرف پیپلز پارٹی کا امیدوار اپنے نشان پر الیکشن لڑ رہا ہے۔ وفاداریاں تبدیل کرنیوالے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، حکمرانوں نے عوام سے کئے وعدے پورے نہیں کئے، عوام کو ریلیف ملنا چاہئے۔ سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ عوام کیساتھ دھوکہ اور فراڈ کیا جا رہا ہے۔ بلاول چاروں صوبوں سے الیکشن لڑیں۔آرٹیکل 62/63 کے تحت نوازشریف کیخلاف مقدمہ چل رہا ہے انہیں تسلیم کرنا پڑیگا کہ میری نااہلی کا حکم غلط تھا، حکومت وعدوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے غیرمقبول ہو رہی ہے، عمران خان کے دائیں بائیں وہ لوگ ہیں جو ہمارے وزیر تھے یا مسلم لیگ (ن) اور (ق) میں تھے گو نواز گو تحریک نہیں انکا ذاتی معاملہ ہے، آرٹیکل 62 اور 63 پر وزیراعظم کیخلاف عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے، مجھے غلط آرڈر پر نااہل قرار دیا گیا تھا۔ مڈٹرم الیکشن نہیں چاہتے مگر مڈٹرم الیکشن کرانا وزیراعظم کی صوابدید پر ہے۔
پرویز اشرف