چودھری برادران سے دوبارہ سیاسی تعلق قائم نہیں ہو سکتا‘ کسی مائنس پلس فارمولے پر یقین رکھتے ہیں نہ جمہوریت کو غیر مستحکم ہونے دینگے : نوازشریف

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے کہا ہے کہ جمہوریت کو غیر مستحکم نہیں ہونے دیں گے۔ این آر او کی منظوری پارلیمنٹ کی بدنامی کا باعث بنتی‘ حکومت خود سوچے کہ ملک میں جمہوریت کو کیسے مضبوط کرنا ہے‘ مائنس ون ٹو پر یقین نہیں رکھتے‘ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا‘ میں نے صدر کے استعفے یا مواخذے کی بات نہیں کی۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ این آر او پر پارلیمنٹ کا فیصلہ اس کی خودمختاری کا مظہر ہے۔ پرویز مشرف کے جانے کے بعد ”سٹیٹس کو“ برقرار ہے‘ چودھری صاحبان کے ساتھ ہمارا سیاسی تعلق اب دوبارہ قائم نہیں ہو سکتا‘ مشرف کے ساتھ یہ لوگ بھی تمام کاموں میں برابر کے شریک ہیں‘ میڈیا پر پابندیاں ہوائی باتیں ہیں قائمہ کمیٹی میں بحث ہوتی لیکن اس دور میں میڈیا پر پابندیوں پر بات نہیں ہو سکتی۔ ہم نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں‘ پرویز مشرف کے ٹرائل پر ہمارا م¶قف واضح ہے‘ پاکستان کے فیصلوں میں امریکہ کا کردار نہیں ہونا چاہئے۔آئی این پی کے مطابق نوازشریف نے کہا کہ این آر او کا پہلے مستقبل اور نہ اب ہے، اچھا ہوا حکومت نے بروقت اچھا فیصلہ کیا اور بل کو اسمبلی میں نہیں لایا گیا، اگر بل اسمبلی میں آتا تو ملک پارلیمنٹ اور سیاستدانوں کی بدنامی کاباعث بنتا، میں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ آپ اس طرح کے قانون اسمبلی میں نہ لائیں کیونکہ کسی کے لئے فائدے مند نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ این آر او کے حوالے سے ایم کیو ایم نے بھی دباﺅ ڈالا ہو گا، ایم کیو ایم حکومت کی اتحادی جماعت ہے، انہوں نے کہا کہ این آر او کے حوالے سے بہت پہلے اپنا فیصلہ سنا چکے تھے، اس حوالے سے ہمارا موقف بہت پرانا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم مڈٹرم الیکشن کا نہ مطالبہ کرتے ہیں نہ ہماری خواہش ہے، حکومت کو خود سمجھنا چاہئے کہ وہ کیا غلطی کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ ہماری نیک خواہش کا احترام کرے اور اپنے معاملات ٹھیک کرے، پرویز مشرف کے جانے کے بعد کوئی تبدیلی آئی اور نہ ہی سترھویں ترمیم کا خاتمہ ہوا اور نہ میثاق جمہوریت پر عملدرآمد ہوا، حکومت کو سوچنا چاہئے کہ وہ کس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لئے ہم نے قومی ذمہ داری ادا کیا اور این آر او پر بھی اپنی ذمہ داری ادا کی۔ انہوں نے کہا کہ این آر او پر حکومت سے کوئی تصادم کا راستہ اختیار نہیں کیا انہیں خلوص نیت سے مشورہ دیا، میاں نواز شریف نے کہا کہ مائنس‘ پلس والے معاملے افسوسناک ہیں‘ جو لوگ اس طرح کے شوشے چھوڑتے ہیں وہ ملک کے ساتھ مخلص نہیں ایسے لوگ پاکستان پر رحم کریں پاکستان اس وقت اس طرح کی باتوں کامتحمل نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنے دیں، اس طرح کی خود مختار پارلیمنٹ ہونی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اگر سترھویں ترمیم ختم کی جائے اور میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کیا جائے تو پاکستان کی خیر ہی خیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام پہلے دن سے ہوتے تو حکومت یہ کو دن دیکھنا نہ پڑتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ملاقات کے لئے دعوت دی ہے جس میں مختلف معاملات پر بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جب یہ اعلان کردیا کہ این آر او کو پارلیمنٹ میں نہیں لایا جائے گا تو فضل الرحمن نے بھی اس کی مخالفت کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ چودھری برادران سے دوبارہ سیاسی تعلق قائم نہیں ہو سکتا، آج ملک میں جوکچھ ہو رہا ہے پرویز مشرف کے ساتھ ساتھ یہ لوگ بھی اس میں برابر کے شریک ہیں۔
نوازشریف