نجانے کون سیٹی بجا رہا ہے‘ مائنس ون نہیں کچھ ہوا تو مائنس 342 ہو گا: گورنر

لاہور (سٹاف رپورٹر) گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ کوئی مائنس ون فارمولا نہیں ہو گا اگر ایسا کچھ ہوا تو مائنس342ہو گا‘ ایسی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جو کامیاب نہیں ہو سکے۔ صدر آصف زرداری کی اصل قوت پی پی کی شریک چیرمین شپ ہے جو ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے ،وہ لغاری،فضل الہی یا اسحق خان نہیں، انہیں کسی اور قوت کی ضرورت نہیں‘ پتہ نہیں کون سیٹی بجا رہا ہے اور کس کے کہنے پر صدر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز صحافی آفتاب اقبال سے انکے والدہ کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میڈیا آرکسٹرا تماشا لگاہوا ہے ،یہ کوئی ایشو نہیں۔ این آر او الیکشن کا حصہ تھا جس وقت سارے پاکستان آئے اور پرویز مشرف کی وردی اتاری گئی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی این آر او کو پہلے بھی پارلیمنٹ میں لا سکتی تھی ہم اسے سپریم کورٹ کے حکم پر لائے پھر اچانک سب کا ضمیر جاگ اٹھا اور اگر پارلیمنٹ یہ چاہتی ہے کہ اسے وہاں نہ لایا جائے تونہیں آئیگا۔ اس طرح کسی ایک پارٹی کو سیاسی طور پر پریشان نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ مڈٹرم الیکشن کا شوشہ ایسے لوگوں کی خواہش ہے جنہیں حکومت نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں لہذا اسے کسی سیاسی مقصد کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئیے۔یہ سمجھنا کہ این آر او اور میڈیا کو استعمال کیا جا سکتا ہے تو یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں‘ این آر او پر اکثریت نہ بھی ملتی تو پھر کیا ہو جاتا‘ انہیں دو برس بعد این آر او یاد آ گیا۔ سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ آصف زرداری دو تہائی اکثریت سے منتخب عوامی صدر ہیں‘ انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نہیں اتارا گیا مائنس ون کی خواہش کچھ لوگوں کے دلوں میں ہی ر ہ جائے گی اور صدر اپنی پانچ سالہ آئنی مدت پوری کریں گے‘ پیپلز پارٹی کیخلاف کئی دفعہ مہم چلائی گئی لیکن اسے ناکام بنایا گیا‘ اب بھی موجودہ حالات میں ہرگز خوفزدہ نہیں‘ پیپلز پارٹی نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو حکومت میں حصہ دیا اب کس طرح مڈٹرم انتخابات کی بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے آٹھ سالوں تک عدالتوں کا سامنا کرکے ایک مثال قائم کی ہے‘ اب (ق) لیگ والوں کے ضمیر بھی جاگ گئے ہیں لیکن سب کو پتہ ہے کہ این آر او سمیت کئی آرڈیننس ان کے دور حکومت میں پیش ہوئے۔
گورنر