”ورکنگ ویمن مسائل و مشکلات کا شکار ہیں‘ معاشرے میں چنداں اہمیت نہیں دی جاتی“

لاہور (رفیعہ ناہید اکرام) دوہری ذمہ داریاں نبھانے کے باوجود ملک بھر کی ملازمت پیشہ خواتین کی اکثریت بنیادی حقوق اور سہولتوں سے محروم ہے۔ مسائل نے ملازمت پیشہ خواتین کی مشکلات میںکئی گنا اضافہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق خواتین کےلئے ملازمت کے حصول کے مواقع انتہائی محدود ہیںاورایگزیکٹو پوزیشن پرتو ایک یا دوفیصد سے بھی ڈے کیئر سنٹرز نہ ہونے وجہ سے شادی شدہ خواتین کیلئے ملازمتوں کو جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں خواتین کو ایک دو ہفتوں سے زیادہ میٹرنٹی لیو نہیںدی جاتی بلکہ اکثر جگہوں پر توملاکم ہیں۔ مردوں کے مقابلے میںعورتوںکو کم تنخواہیں دیتے ہیں۔ ملازمت کے دوران یونین سازی یا یونین میںشمولیت پربھی خواتین کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ادارے پر کرائسزآئے تو سب سے پہلے عورتوں کو فارغ کیا جاتا ہے۔ اکثر ادارے خواتین کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم نہیں کرتے۔ مختلف فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کی اکثریت تقرر نامہ نہ ہونے کے باعث قانونی طور پر ورکر تصور نہیں ہوتی۔ فارماسوٹیکل کمپنیوں، کپڑے کی صنعت،ملبوسات کی فیکٹریوں، کھیلوں کے سامان سمیت دیگر صنعتوں میں ریڑھ کی ہڈی کا کردارادا کرنے کے باوجوداکثر ٹریڈ یونینز بھی ملازمت پیشہ خواتین کی محنت کو نظر انداز کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ بھٹوں پر کام کرنے والی، زراعت کے شعبے سے وابستہ اور گھریلو ملازمائیںجبری مشقت ہی نہیں غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ورکنگ ویمن آرگنائزیشن کی ایگزکٹو ڈائریکٹر آئمہ محمود نے نوائے وقت سے گفتگو میں کہا کہ ملازمتوں کے حالات کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہ ہونے کی وجہ سے وہ بہت جلد گھبرا کر دوبارہ گھروں میں بیٹھ جانے کو ترجیح دینے لگتی ہیں۔ ویمن ورکرز ہیلپ لائن کی سابق جنرل سیکرٹری بشریٰ خالق نے کہا کہ خواتین معاشی مشکلات کو کم کرنے کی خاطر ملازمتیں ڈھونڈنے اور اختیار کرنے پر مجبور ہورہی ہیں۔