مرسی کا تختہ الٹانا استعماری سازش ہے، عالمی برادری فوجی اقدام مسترد کرے: سیاسی رہنما

لاہور (خصوصی نامہ نگار) مصر میں فوج کی طرف سے صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے پر سیاسی اور مذہبی رہنماﺅں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جمعیت علماءاسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مصر میں انقلاب کے مقاصد کیا ہیں لمحہ فکریہ ہے ایک جمہوری حکومت کا تحتہ الٹنا غیر جمہوری عمل ہے یہ بین الاقوامی سازشوں کا حصہ ہے، مصر میں فوجی مداخلت جمہوریت پر شب خون ہے اور اعتدال پسند مذہبی قوتوں کے لئے بڑا دھچکہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری فوجی اقدام کو مسترد کر دے۔ گزشتہ روز پارٹی رہنماﺅں مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا محمد امجد خان، مفتی ابرار احمد اور دیگر سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اسلامی دنیا میں اعتدال پسند مذہبی قوتوں کا راستہ روکنے سے شدت پسندی اور عسکریت پسندی کو فروغ ملے گا لہٰذا اسلامی دنیا میں فوجی آمروں کی حمایت کی روش ترک کر نا ہو گی۔ انہوں نے کہا مصر میں فوجی بغاوت مذہبی اور سیکولر حلقوں کے درمیان انتہائی ٹکراو¿ کا ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے ذریعے بین الاقوامی اصولوں اور ظابطوںکی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں وہاں بین الاقوامی اصولوں کو روندا جارہا ہے۔ پہلے سے زخمی ملک شدید زخمی کیا جا رہا ہے۔ ملک کی سلامتی پر ہونے والے حملوں پر عالمی ضابطے بنانے والے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں حالانکہ انھیں اپنا حق ادا کر نا چاہئے۔ ڈرون حملے بدترین دہشت گردی ہے۔ دریں اثناءتحریک حرمت رسول کے کنوینر مولانا امیر حمزہ، جمعیت علماءپاکستان کے سیکرٹری جنرل قاری زوار بہادر ، جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرﺅف فاروقی، مولانا عاصم مخدوم، مولانا محمد شمشاد سلفی، تحریک آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین حافظ سیف اللہ منصور اور پاکستان واٹر موومنٹ کے چیف کوآرڈینیٹر حافظ خالد ولید نے کہا کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والے امریکہ اور یورپ کو مصر میں جمہوریت اس لئے پسند نہیں آئی کہ وہاں کی اکثریت نے اسلام پسندوں کو منتخب کیا تھا۔ امریکیوں کے نزدیک محمد مرسی حکومت کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ انہوںنے ریفرنڈم کے ذریعہ اپنے آئین میں توہین رسالت کی سزا موت مقرر کی اور محب رسول ہونے کا ثبوت دیا۔ پہلے دن سے ہی مصر میں ان کی حکومت کو چلنے نہیں دیا گیا اور سازشیں شروع کر دی گئیں۔