ضیا الحق کا مارشل لا: پیپلز پارٹی آج یوم سیاہ منائے گی

ضیا الحق کا مارشل لا: پیپلز پارٹی آج یوم سیاہ منائے گی

لاہور (خبر نگار) 5 جولائی جہاں پیپلز پارٹی کے لئے آج بھی سیاہ ترین دن ہے وہیں پاکستان کی تاریخ کے طویل ترین مارشل لا کے آغاز کا دن بھی ہے۔ پیپلز پارٹی گذشتہ 35 برس سے اس دن کو بطور یوم سیاہ منا رہی ہے۔ آج بھی ملک بھر میں جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے خلاف سیمینار اور تقریبات ہوں گی۔ پیپلز پارٹی نے اپنے بانی چیئرمین کو جنرل ضیا الحق کے ہاتھوں پھانسی پر لٹکائے جانے کا صدمہ آج تک نہیں بھلایا ہے۔ بھٹوز اور جیالوں کے لئے آج بھی ضیا الحق سب سے بڑا دشمن ہے، بھٹو کی بے وقت موت سے پیپلز پارٹی اپنی قیادت سے محروم ہو گئی، ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پارٹی کو نصرت بھٹو اور بےنظیر بھٹو نے سنبھالا مگر دونوں کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا مگر پھر جنرل ضیا الحق کے دور میں ہی بےنظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کا منظر بھی آج تک لاہور کے شہریوں کو یاد ہے کہ پھر اتنا بڑا استقبالی جلوس دیکھنے میں نہیں آیا۔ ضیا الحق کی موت کے بعد بےنظیر بھٹو وزیراعظم بنیں مگر آج 25 برس گزرنے کے بعد عدالتوں میں پیش ہونے والے کاغذات سے ثابت ہو رہا ہے کہ بےنظیر بھٹو کو بعض اداروں نے قبول نہیں کیا تھا۔ ان کی حکومت کو قبل از وقت رخصت کیا گیا اور پیپلز پارٹی کے ”مقابلے“ کے لئے بنائے گئے اسلامی جمہوری اتحاد کو انتخابات میں کامیابی ملی مگر اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت جو کہ میاں نوازشریف کی حکومت تھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہ رکھ سکی اور یہ حکومت بھی قبل از وقت رخصت ہوئی۔ بےنظیر بھٹو کو پھر کامیابی ملی۔ انہوں نے اداروں سے لڑائی کے پرانے تجربہ کے پیش نظر ایک ادارے کا سربراہ ایک ریٹائرڈ جرنیل کو بنایا مگر اس کے باوجود اپنا اقتدار 5 سال مکمل نہ کر سکیں اور نہ صرف اقتدار دوبارہ گنوایا بلکہ شوہر آصف زرداری کی گرفتاری کا صدمہ بھی اٹھایا۔ اس اقتدار میں بےنظیر بھٹو نے اپنے بھائی مرتضیٰ بھٹو کو گنوایا اور پیپلز پارٹی کو ذوالفقار علی بھٹو بھٹو کے بعد دوسرے بھٹو کا صدمہ اٹھانا پڑا مگر پیپلز پارٹی کے لئے آج یہ صدمہ اس لئے بڑا صدمہ ہے کہ مرتضیٰ بھٹو اپنی بہن کے دور حکومت میں پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ دوسرے اقتدار کے بعد بےنظیر بھٹو کو گرفتاری سے بچنے کے لئے ملک سے باہر جانا پڑا جس گرفتاری سے بچنے کے لئے وہ 1998ءمیں پاکستان سے باہر گئی تھیں اس کیس میں گرفتاری کا پھندا آج بھی ان کے شوہر اور صدر پاکستان کے اوپر لٹک رہا ہے۔ سوئس بنکوں کی دولت کا معاملہ آج بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ بےنظیر بھٹو نے اپنے بدترین مخالف میاں نوازشریف سے بیرون ملک دوستی کا ہاتھ ملایا، مفاہمتی سیاست شروع کی، جنرل مشرف سے بھی ہاتھ ملایا اور ”معاملات“ طے کر کے پاکستان پہنچیں مگر پیپلز پارٹی کی انتخابات میں کامیابی سے پہلے ہی پیپلز پارٹی کو ایک اور صدمہ برداشت کرنا پڑا، بےنظیر بھٹو راولپنڈی میں دہشت گردی کی واردات میں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ بےنظیر بھٹو کی موت کے بعد پیپلز پارٹی کو انتخاب میں کامیابی ملی اور آصف زرداری نے مفاہمتی سیاست پر عمل کرتے ہوئے حکومت بھی بنائی اور 5 سال بھی گزارے مگر پیپلز پارٹی کو جو نقصان اس دور میں پہنچا وہ پہلے کبھی نہیں پہنچا تھا۔ پارٹی کو تین صوبوں میں نہ ہونے کے برابر نمائندگی ملی اور صرف سندھ تک یعنی ہوم گرا¶نڈ تک محدود ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کے قیام کو 46 سال ہو رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو، بےنظیر بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹی کو اس عرصہ میں فطری موت نہیں ملی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پارٹی آج ”بھٹوز“ کے بغیر ہے، آج پارٹی پر آصف زرداری حکمران ہیں اور ان کے بعد ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کا حکم چلتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو زندہ کرنے کے لئے ”بھٹوز“ کو آگے لانا ہو گا۔ بےنظیر بھٹو کی اولاد بلاول بھٹو، بختاور بھٹو اور آصفہ بھٹو ہی اپنی ماں کے وارث ہیں۔ ان ”وارثوں“ میں سے ایک کو آگے آ کر پارٹی کو ”سہارا“ دینا ہو گا۔ پارٹی کے جیالے اس وقت کسی گیلانی، راجہ، چودھری، میاں کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں، انہیں آج بھی بھٹو کا ”انتظار“ ہے۔ پیپلز پارٹی کی صرف بھٹو زندہ کر سکتا ہے۔ صدر آصف زرداری جلد ”ایوان صدر“ سے رہائی پانے والے ہیں، وہ پارٹی کو ساڑھے پانچ برس سے چلا رہے ہیں مگر یہ کہنا کہ کامیابی سے چلا رہے ہیں غلط ہو گا۔ پارٹی کا رکن آج مایوس اور ناامید ہے، آصف زرداری کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ بھٹو کی پارٹی کون سا بھٹو سنبھالے گا۔علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ 5 جولائی 1977ءکو تاریخ میں ہمیشہ یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایک آمر نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے کلاشنکوف، ہیروئن اور مذہبی انتہا پسندی سمیت دیگر معاشرتی برائیوں کے جو بیج بوئے انہوں نے آج تناور درخت بن کر ہمارے معاشرے کو جکڑ رکھا ہے، آج کل ملک دہشت گردی اور انتہا پسندی کے باعث جن مسائل سے دوچار ہے ان کا بل واسطہ تعلق 5 جولائی کی فوجی بغاوت سے ہے۔
اسلام آباد (اے پی پی) صدر زرداری نے پانچ جولائی کو قومی تاریخ میں سیاہ دن قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ قوم جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے فروغ اور اس کے تحفظ کے لئے کوشاں رہے۔ صدر مملکت نے اپنے پیغام میں آئین کی تنسیخ اور 36 سال قبل آمر کی جانب سے اقتدار پر قبضہ کی مذمت کرتے ہوئے عوام سے کہاکہ وہ جمہوریت کو مضبوط کریں تاکہ ملک خوشحالی اور ترقی حاصل کرتا رہے۔ انہوں نے کہاکہ 5 جولائی 1977ءایسا دن تھا جب طاقت کے بل بوتے پر آمر نے سیاسی اختیار سلب کرلیا، مذہب کا استحصال کیا، آئین اور ریاستی اداروں کو تباہ کیا اور ملک کو سیاسی و سماجی بے یقینی میں دھکیل دیا۔ انہوں نے کہاکہ اس دن کا نتیجہ ہمیں بتاتا ہے کہ کیسے آمر نے اپنی سیاسی بقاءکی خاطر انتہا پسندی کو فروغ دیا اور کیسے ایک اور نے انہیں انتہا پسندوں کو اپنے سیاسی ایجنڈا کو پروان چڑھانے کے لئے استعمال کیا۔ انہوںنے کہا کہ بلاشبہ قوم اب بھی اس سیاہ دن کے اثرات کو بھگت رہی ہے۔
زرداری پیغام