واسا کے ورک چارج ملازمین 3 ماہ سے تنخواہوں سے محروم‘ مستقل بھی نہ کیا جا سکا

لاہور (خبرنگار) واسا کے ورک چارج ملازمین 3 ماہ سے تنخواہوں کے بغیر نوکری کر رہے ہیں۔ واسا انتظامیہ ہر ماہ انہیں تنخواہ کی ادائیگی کے وعدوں پر ٹرخا رہی ہے۔ مہنگائی سے پریشان یہ غریب جونیئر پمپ آپریٹر قرضے لے کر گھر کا چولہا جلا کر تھک گئے ہیں اور اب انہیں مزید کسی طرف سے قرض بھی ملنے کی امید نہیں رہی۔ ان ورک چارج ملازمین کو جو برسوں سے بطور ورک چارج کام کر رہے ہیں گزشتہ سال یہ خوشخبری سنائی گئی تھی کہ انہیں مستقل کیا جارہا ہے۔ ان سب ملازمین سے میٹرک کے سرٹیفکیٹ مانگے گئے۔ انٹرویو کئے گئے اور مستقل نوکری کی امید دلائی گئی مگر ایک ہفتہ قبل اچانک اعلیٰ ترین سطح سے آنے والی فہرست پر 140 افراد کو بھرتی کرکے ان بدقسمت ملازمین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔ غربت سے پریشان یہ ملازم ”آزاد عدلیہ“ اور چیف جسٹس پاکستان چودھری محمد افتخار سے رابطے کی خواہش کے باوجود صرف اس خوف سے انصاف مانگنے کی ہمتی نہیں کر پا رہے ہیں کہ ان کی ملازمت ”اس قدر کمزور“ ہے کہ انتظامیہ عدلیہ سے رابطے پر نہیں فوری طور پر بے روزگار کر دے گی۔ ان ملازمین کو توقع ہے کہ چیف جسٹس پاکستان چودھری محمد افتخار اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ”سوموٹو“ ضرور لے گی۔