سیدعلی ہجویری داتا گنج بخش کے مزارپر سیاسی ومذہبی شخصیات سمیت عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔

سیدعلی ہجویری داتا گنج بخش کے مزارپر سیاسی ومذہبی شخصیات سمیت عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔

داتا دربار لاہور میں جمعرات کی شب ہونے والے خودکش حملوں کے بعد مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے حاضری دی ۔ اتوار کے روز داتا صاحب پر حاضری دینے والوں میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ، سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری اور پنجاب کے وزیر خوراک چودھری عبدالغفور شامل تھے ۔ عمران خان نے داتا دربار پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ وزیراعظم ہوتے تو تین ماہ میں ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کردیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند گروپوں کی طاقت کم کرنے کے لئے ان سے مذاکرات کیے جائیں، اگر امریکہ طالبان سے مذاکرات پرتیار ہے تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔
سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری نے داتا دربار پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو روکنا ہے توامریکی مداخلت ختم اوردینی مدارس کا نصاب تعلیم تبدیل کرنا ہوگا، ہمیں سیاست سے بالا ترہوکر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔
پنجاب کے وزیرخوراک چودھری عبدالغفورنے بھی داتا دربارپرحاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر چودھری غفور نے کہا کہ دہشت گردوں کا تعلق کسی مذہب، فرقے یا مسلک سے نہیں، یہ انسانیت کے دشمن ہیں جو ملک کو کمزورکرنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے خود کش حملوں میں شہید ہونے والے افراد کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام بھی کیا گیا۔