بلڈ بنکوں کے نظام کو ریگولیٹ نہ کرنے پر بیماریوں میں تیزی سے اضافہ

لاہور (نیوز رپورٹر) صوبے مےں بلڈ بنکوں کے نظام کو رےگولےٹ نہ کرنے اورخون کی نامناسب سےکرےننگ کی وجہ سے معاشرے میں خون سے پھےلنے والی بےمارےوں مےں تےزی سے اضافہ ہورہا ہے،پنجاب میں نجی شعبے کے 12سو کے قریب بلڈ بنک مےں سے تقرےباً35 فےصد تک خون غےر معےاری ہونے کی تصدیق ڈاکٹرز نے کر دی ہے ۔ اس حوالے سے چند ماہ قبل ہونے والے سیمینار میں جس میں حکومت کے عہدیداران سمیت محکمہ صحت پنجاب کے ذمہ دارارن شامل تھے، کا بھی کہنا تھا کہ بہت سے بلڈ بنکوں کے پاس مناسب انفراسٹرکچر اورتربےت ےافتہ ورکرز کی شدےد کمی ہونے سے خون سے پھےلنے والی بےمارےوں مےں تےزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اےڈز کنٹرول پروگرام مےں نجی شعبہ کے بلڈ بنکوں کو شامل کےا جا رہا ہے۔ حکومت قوانےن پر عملدرآمد ڈنڈے کے زور پر کرانے کے بجائے بلڈ بنک مالکان کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ عوامی حلقوں کا یہ سوال ہے کہ انسانی جانوں سے کھےلنے والوں کے ساتھ کوئی رعاےت نہےں برتنی چاہئے۔ دوسری جانب حکومت غیر معیاری خون بیچنے والوں کے خلوف کارروائی کرنے کی بجائے انہیں نرمی برتنے کی باتیں کی جا رہی ہیں اس سلسلے میں وزیراعلی پنجاب کو جلد از جلد قانون سازی کرنی چاہئے۔