”مسلمانان برصغیر کے حقوق کیلئے مولانا محمد علی جوہر کی خدمات ناقابل فراموش ہیں“

لاہور(خصوصی رپورٹر)تحریک آزادی کے عظیم مجاہد مولانا محمد علی جوہر نے مسلمانان برصغیر کے حقوق و مفادات کے تحفظ کیلئے ناقابل فرمواش خدمات انجام دیں ۔آپ ایک نڈر صحافی‘شاعر ‘ مقرر، مو¿رخ اور زبردست انشاءپرداز تھے ۔ان خیالات کااظہار پروفیسر ڈاکٹر پروین خان نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان ،شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں مولانا محمد علی جوہر کی برسی کے موقع پر منعقدہ خصوصی لیکچر کے دوران کیا۔ دسمبر 1906ءمیں آل انڈیا مسلم لیگ کے تاسیسی اجلاس میں شرکت کی۔ مسلم لیگ کا دستور بنانے والوں میں آپ کا نام بھی شامل ہے۔ یکم جنوری 1911ء سے ایک ہفتہ وار اخبار ”کامریڈ“ جاری کیا۔ 1913ء میں دہلی سے روزنامہ ”ہمدرد“ جاری کیا۔ ان کی بے باکانہ صحافت کے پیش نظر حکومت نے انہیں 1915ءمیں گرفتار کر لیا اور ان کے پرچے کو بھی بند کر دیا۔ ”تحریک خلافت“ کے بانی اور سرکردہ ترین لیڈر مولانا محمد علی جوہر ہی تھے۔ نہرو رپورٹ کے بعد مولانا محمد علی ہندوﺅں سے بددل ہوگئے۔ لندن میں انہوں نے گول میز کانفرنس کے اجلاسوں میں شرکت کی۔ اسی دوران انہوں نے اعلان کیا کہ وہ غلام ملک میں نہیں مرنا چاہتے۔ بالآخر لندن میں جہاں وہ برطانیہ کے سامنے ہندوستان کی آزادی کا مطالبہ پیش کرنے کیلئے گئے تھے‘ 4 جنوری 1931ءکو انتقال کر گئے۔ برطانوی حکومت ان کی وصیت کے مطابق ان کی میت بیت المقدس لے گئی اور وہیں آپ کو دفن کیا گیا۔