سی این جی کے بحران میں شدت‘ ایسوسی ایشن کا آٹھ جنوری سے مظاہروں کا اعلان‘ پمپوں پر لمبی قطاریں

05 جنوری 2013 0
Print Email to friend
سی این جی کے بحران میں شدت‘ ایسوسی ایشن کا آٹھ جنوری سے مظاہروں کا اعلان‘ پمپوں پر لمبی قطاریں

لاہور+ اسلام آباد+ قصور (نیوز رپورٹر+ خبرنگار+ نامہ نگار) ملک بھر میں سی این جی کا بحران شدت اختیار کر گیا۔ سی این جی ایسوسی ایشن نے 8جنوری سے مظاہرے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چیئرمین غیاث پراچہ نے کہا بحران میں سیاستدان اور بیورو کریسی براہ راست ملوث ہے۔ ڈیزل، پٹرول گاڑی مالکان منہ مانگے کرائے وصول کرنے لگے، زائد کرایوں کیخلاف کئی مقامات پر لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی ہوئے، سی این جی گاڑیوں کی بندش سے عوام سڑکوں پر خوار ہونے لگے اور بروقت دفاتر تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ پمپوں پر بھی لمبی قطاریں لگنے لگیں، متعدد مقامات پر شہری اور پمپ انتظامیہ کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات بھی رونما ہوئے، صدر زرداری نے کہاکہ صنعتوں کو ہنگامی طور پر بلاتعطل گیس فراہم کی جائے، قصور میں خواتین نے سوئی گیس آفس پر پتھراﺅ کیا۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن سپریم کونسل غیاث عبداللہ پراچہ نے اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر حکومت نے تمام شراکت داروں کے لئے قابل قبول پالیسی نہیں بنائی اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہیں کیا تو منگل 8جنوری کو ملک کے تمام بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں ٹرانسپورٹروں اور لاکھوں عوام سے مل کر اسلام آباد میں پُرامن مظاہرہ کیا جائے گا۔ بحران کی آڑ میں نہ صرف ملکی مفاد کے خلاف پالیسیاں منظور کروانے کا سلسلہ جاری ہے بلکہ منظور نظر شعبوں کو نوازنے کا سلسلہ بھی بلاروک ٹوک جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی نیت روز اول سے ہی خراب تھی۔ سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد ڈھائی ماہ تک پالیسی گائیڈ لائن کا بہانہ استعمال کیا گیا جس کے بعد سی این جی شعبہ کے خاتمہ، سی این جی استعمال کرنے والی گاڑیوں پر پابندی اور ایل پی جی متعارف کروانے کی سازش کی گئی۔ اس دوران سی این جی سٹیشن مالکان، حکومت اور عوام کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ادھر ملتان ریجن کے سی این جی سٹیشنز 12روز سے بند رہے۔ سی این جی کی مسلسل بندش سے سی این جی سٹیشنز ویران ہو گئے ۔ دریں اثناءفیصل آباد کی صنعتوں کو 14ویں روز بھی گیس کی فراہمی بند رہی، صنعتوں کو غیرمعینہ مدت تک گیس کی معطلی کے اعلان نے اگلے ماہ جرمنی میں منعقد ہونے والی ٹیکسٹائل کی سالانہ نمائش میں سال بھر کیلئے صنعتکاروں کی آرڈرز ملنے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جبکہ سی این جی اور بجلی کی بندش کے بعد تمام تر دباﺅ پٹرول پمپس پر آ گیا ہے۔ لاہور اور دیگر شہروں میں پٹرول، ڈیزل سمیت دیگر متبادل ذرائع کے حصول کے لئے لمبی لائنیں نظر آ رہی ہیں جس کی وجہ سے صارفین اور پٹرول پمپس انتظامیہ کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی۔ قصور کے علاقوں میں کشمیر چوک، قتل گڑھی، کوٹ مراد خاں اور دیگر علاقوں میں سوئی گیس کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ کشمیر چوک میںاحتجاجی ریلی میں شریک مرد و خواتین نے محکمہ سوئی گیس کے دفتر پر حملہ کر دیا۔ دفتر پر اینٹیں اور پتھر وغیرہ مارے۔ محکمہ کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ محکمہ سوئی گیس کے اہلکار دفتر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ دریں اثناءصدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ صنعتوں کو ہنگامی بنیادوں پر بلاتعطل گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور صنعتی انجمنوں کی مشاورت سے گیس کی بندش کا شیڈول طے کیا جائے ۔ یہ ہدایات انہوںنے مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کو دی جنہوں نے صدر سے ملاقات کی ۔ملاقات میں انہوں نے صدر مملکت کو ملک میں توانائی خصوصاً سی این جی بحران ،صنعتوں کو گیس کی بندش اور متبادل ذرائع سے گیس کی فراہمی کے لئے لیکویڈ مائع گیس (ایل این جی) کی درآمد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔



دیگر خبریں

تحریک انصاف سیالکوٹ کے 68 کارکنوں کی نظر بندی کیخلاف درخواست خارج

تحریک انصاف سیالکوٹ کے 68 کارکنوں کی نظر بندی کیخلاف درخواست خارج

03 ستمبر 2014

لاہور (وقائع نگار خصوصی) ہائیکورٹ نے تحریک انصاف سیالکوٹ کے 68 کارکنوں کی نظربندی کیخلاف دائر درخواست میں آفس کے اعتراض اور عدم پیروی پر ناقابل سماعت قرار دے کر خارج ...