پنجاب میں بلٹ پروف گاڑیاں تیار کرنے کا معاملہ بی ایم ڈبلیو اور مرسیڈیز تک جا پہنچا

لاہور (معین اظہر سے) پنجاب میں اہم سرکاری شخصیات و افسران کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں تیار کرنے کا معاملہ مرسیڈیز اور بی ایم ڈبلیو گاڑیوں تک پہنچ گیا ہے جن کی مالیت کروڑوں روپے میں بنتی ہے، پہلے وزیراعلیٰ پنجاب سے16 سو سی سی گاڑیوں کی اجازت لی گئی۔ کمیٹی نے 1600 سی سی گاڑیوں کو بلٹ پروف بنانے کو ٹیکنیکل طور پر مسترد کر دیا گیا جبکہ بعد ازاں 1600 سی سی اور 2600 سی سی گاڑیوں اور ڈبل کیبن کو بلٹ بنانے کی منظوری لی گئی، اب ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے نئی تجاویز دے دی ہیں جس میں مرسیڈیز اور بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کی خریداری کی تجاویز دے دی گئی ہیں تاہم ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ گاڑیاں کون استعمال کر ے گا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات پر ایک تجویز تیار کی گئی تھی کہ اہم شخصیات اور افسران کو ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے لئے 1600 سی سی کی نئی گاڑیاں خرید کر ان کو B-6 ٹائپ کے طور پر بلٹ پروف کروایا جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے 1600 سی سی نئی گاڑیاں خرید کر ان کو بلٹ پروف کرنے اور اہم حکومتی شخصیات کو دینے کی منظوری دیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کے سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی جس میں سیکرٹری ہوم، ایڈیشنل ائی انٹی ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ اور سپیشل سیکرٹری فنانس شامل تھے۔ کمیٹی نے پہلے لائیٹ آمریڈ وہیکل اور بعد ازاں فل آمریڈ وہیکل کے بارے میں مختلف کمپنیوں سے تفصیلا ت لیں بعد میں حتمی فیصلہ کیا گیا کہ فل آمریڈ وہیکل جو B-6 ٹائپ ہیں بنوایا جائے گا۔ کمیٹی نے منظوری کے بعد خود ہی فیصلہ کیا کہ کسی بڑے دہشت گردی کے واقعہ میں یہ گاڑیاں زیادہ برداشت نہیں کر سکیں گی جس پر خالد محمود غوری یو ای ٹی کے پروفیسر کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی گئی جس کو ٹارگٹ دیا گیا کہ وہ جائزہ لے کر اپنی رپورٹ دے۔ اس کمیٹی کو بتایا گیا سندھ حکومت نے دو لینڈ کروز گاڑیوں کو B-7 بلٹ پروف کروایا جس پر تقریباً فی گاڑی 3 کروڑ 70 لاکھ 9800 ہزار روپے خرچہ آیا ہے۔ کمیٹی کو کہا گیا کہ وہ پہلے ہیو انڈسٹری ٹیکسلا کا دورہ کر کے ان سے بات کرے۔ اس کے بعد 1600 سی سی گاڑی ٹیسٹ کے طور پر چیک کرنے کے لئے ایک کمیٹی عامر ذوالفقار ڈی ائی جی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں بنائی گئی جس میں اعجاز احمد ایڈیشنل سیکرٹری ٹرانسپورٹ محکمہ سروسز، پروفیسر خالد محمود خالد پروفیسر انجیرنگ یورنیورسٹی شامل تھے۔ امتیار احمد باوجوہ موٹر وہیکل ایگزامینر لاہور شامل تھے جس پر روڈ ٹیسٹ کے بعد 1600 سی سی گاڑیوں کو فیل دیا اور وزیراعلیٰ کو 2400 سے 3 ہزار سی سی گاڑیوں کو بلٹ پروف کروانے کی تجویز دے دی گئی۔ کمیٹی نے ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا کا دورہ کر کے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ نے جو تجاویز منظور کیںچار گاڑیاں اور دو ڈبل کیبن وہ بھی ضرورت پوری نہیں کر سکتے اور اب تجویز دی گئی ہے کہ لینڈ کروز جیب یا بی ایم ڈبلیو یا مرسٹیڈیز گاڑیاں نئی خرید کر ان کو بلٹ پروف کروایا جائے جبکہ اس تجویز کی منظوری کی صورت میں بلٹ پروف 6 گاڑیوں کا خرچہ تقریباً 30 سے 35 کڑور تک جا سکتا ہے۔