طالبان سے مذاکرات پاکستان کا اپنا فیصلہ، برطانیہ رائے نہیں دے سکتا: فلپ بارٹن

لاہور ( سپیشل رپورٹر+ کامرس رپورٹر) پاکستان میں برطانیہ کے نئے ہائی کمشنر فلپ بارٹن نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ پاکستان کے عوام اور حکومت کا ہے اس بارے میں برطانیہ کی کوئی رائے نہیں۔ الطاف حسین کے کیس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ برطانیہ میں پولیس آزادانہ کام کرتی ہے میرے یہاں قیام کے دوران ترجیح میں دونوں ملکوں کے معاشی تعلقات کی بہتری شامل ہے کیونکہ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان تجارت 2.1 ارب پاؤنڈ ہے جس کو اگلے سال تک 3 ارب پاؤنڈ تک لے جانے کا ہدف ہے۔ یہ باتیں انہوں نے گزشتہ روز اخبار نویسوں سے ملاقات میں کہیں۔ اس مو قع پر ڈپٹی ہائی کمشنر جیسپر تارنٹن بھی موجود تھے۔ فلپ بارٹن نے کہا کہ پاکستان سے میرا تعلق بہت پرانا ہے کیونکہ میرے دادا یہاں پنجاب رجمنٹ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ میری کوشش ہو گی کہ میں پاکستان اور برطانیہ میں پارٹنر شپ کو بہتر بناؤں۔ پاکستان کو جی ایس پی پلس سٹیٹس ملنے سے پاکستان کی برآمدات یورپی منڈیوں میں بڑھیں گی۔ ایجوکیشن سیکٹر میں پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ کے بچوںکو کوالٹی ایجوکیشن فراہم کی جاسکے تاہم پاکستان سے برطانیہ تعلیم کے لئے آنے والے طالب علموں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے لیکن برطانیہ میں تعلیم کے شعبہ میں کسی ملک کے طالب علموں کو ترجیح نہیں دی جاتی ہے تمام ممالک کے طلبہ کو یکساں اہمیت دی جاتی ہے۔ مزید برآں برطانوی ہائی کمشنر مسٹر فلپ بارٹن نے اپنے وفد کے ہمراہ پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے دفاتر کا دورہ کیا اور انویسٹمنٹ بورڈ کے حکام سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی تعاون کے فروغ کے حوالے سے مذاکرات کئے۔ اس موقع پر ڈپٹی پولیٹیکل قونصلر جیسپر تھارنٹن، ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ آفیسر وقار اللہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر یو کے ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ ارشد رؤف بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر انویسٹمنٹ بورڈ پنجاب اور یو کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کے درمیان تجارتی معلومات کے باہمی تبادلے اور خواہش مند فریقین کے درمیان بزنس سے متعلقہ روابط کے فروغ کے لئے ایک مشترکہ نالج بیس کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا۔ بعدازاں برطانوی وفد نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ری پبلک انجینئرنگ کارپوریشن پیر سعد احسن الدین، سی ای او میٹرکس سورسنگ اظفر حسن ،ڈائریکٹر بخش گروپ شہریار بخش اور ڈائریکٹر پراجیکٹس الائیڈ انجینئرنگ علی آغا سے بھی ملاقات کی۔