پنجاب کا مجوزہ بلدیاتی ایکٹ میثاق جمہوریت، آرٹیکل 140-Aکے منافی

لاہور (اقتدار گیلانی/ دی نیشن رپورٹ) اگرچہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ارکان صوبائی اسمبلی پر یہ معاملہ چھوڑ دیا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ آیا بلدیاتی الیکشن جماعتی ہوں گے یا نہیں تاہم یہ بات واضح ہے کہ متعلقہ افراد چاہتے ہیں کہ میاں نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ہونے والے میثاق جمہوریت پر عملدرآمد ہو۔ مجوزہ مسودہ کے مطابق بلدیاتی ادارے صوبائی حکومت کو جوابدہ ہیں متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کو نہیں۔ یہ میثاق جمہوریت کی ایک اور خلاف ورزی ہے۔ 14 مئی 2006ءکو لندن میں ہونیوالے میثاق جمہوریت کے مطابق بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر پر ہوں گے۔ یہ صوبائی الیکشن کمشن کے ماتحت ہوں گے۔ یہ متعلقہ اسمبلیوں اور عوام کو عدالتوں کے ذریعے جوابدہ ہوں گے جبکہ حکومت پنجاب غیرجماعتی انتخابات چاہتی ہے۔ یہ باتیں متعلقہ سٹیک ہولڈرز نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرجماعتی انتخابات شکست کے خوف سے کرائے جا رہے ہیں۔ حکومت منتخب افراد پر حکمران جماعت میں شمولیت کیلئے دباﺅ ڈالے گی۔ ان انتخابات میں بدترین ہارس ٹریڈنگ ہوگی۔ آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت ہر صوبے کو لوکل گورنمنٹ سسٹم بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق مجوزہ بلدیاتی ایکٹ 2013ءنہ صرف میثاق جمہوریت بلکہ آئین کے آرٹیکل 140-Aکی خلاف ورزی بھی ہے۔