پاکستان سزائے موت سنانے میں پہلے، عملدرآمد میں آخری نمبر پر ہے

لاہور (شہزادہ خالد) سزائے موت سنانے میں پاکستان دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ عملدرآمد کرنے میں آخری نمبر پر ہے۔ 2011ءمیں سب سے زیادہ سزائے موت پاکستان میں سنائی گئی مگر ایک پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ پاکستان میں گزشتہ برس 313 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی۔ 20 ممالک میں سزائے موت پر عملدرآمد ہوا جن میں ایران میں 360، سعودی عرب 82، عراق 68، امریکہ 43، یمن 41، شمالی کوریا 30، صومالیہ 10، سوڈان 7، بنگلہ دیش 5، افغانستان اور بیلاروس میں 2 مجرموں کو سزائے موت دی گئی۔ دنیا بھر میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں میں 44 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہے۔ سوئٹزرلینڈ سمیت 96 ممالک میں سزائے موت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے جس سے جرائم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ سزائے موت کا خاتمہ کرنے والے ممالک میں ترکی، برطانیہ، بھوٹان، نیپال، فلپائن، کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، میکسیکو، جنوبی افریقہ و دیگر شامل ہیں۔ 35 ممالک میں سزائے موت کا قانون تو موجود ہے مگر سزائے موت نہیں دی جا رہی۔ ان میں سری لنکا، جنوبی کوریا، روس، تیونس، مراکش، میانمار، کینیا، گھانا، مالدیپ، موریطانیہ اور تنزانیہ شامل ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر دنیا کے 131 ممالک میں سزائے موت کا تصور ختم ہو گیا ہے۔ 2010ءمیں دنیا بھر میں 2024 مجرموں کو سزائے موت دی گئی۔ 2011ءمیں 63 ممالک کے 1923 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی۔ 676 مجرموں کی سزا پر عملدرآمد کیا گیا۔ ویتنام، بیلاروس میں سزائے موت کے بعد نعش ورثاءکو نہیں دی جاتی۔ صومالیہ، ایران، سعودی عرب، شمالی کوریا میں سزائے موت پر سرعام عمل کیا جاتا ہے۔ سزائے موت پر عمل نہ ہونے پر پاکستان میں 50 فیصد سزائے موت کے ملزموں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ جن ممالک میں سزائے موت کا قانون نہیں ہے ان میں جرائم کی شرح زیادہ ہے۔ خفیہ قوتیں پاکستان میں سزائے موت کے قانون کو ختم کرانے کیلئے ہاتھ پاﺅں مار رہی ہیں۔