مسلم لیگ (ن) نے پی پی اور پی ٹی آئی کو قریب آنے کا موقع فراہم کر دیا

لاہور (نیشن رپورٹ/ مبشر حسن) سیاسی بساط پر مسلم لیگ (ن) کے کچھ اقدامات کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایکدوسرے کے قریب آنے لگے ہیں۔ 11 مئی کے انتخابات سے قبل بھی دونوں جماعتوں کے درمیان قربت دیکھی جا رہی تھی۔ انتخابات کے صرف تین ماہ بعد حکومتی اقدامات کے باعث دونوں جماعتیں مشترکہ حکومت مخالف مہم چلانے کی پوزیشن میں آگئی ہیں۔ متنازع صدارتی الیکشن عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس اور حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 158 جس میں صوبوں کو وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بات کی گئی ہے، کی تشریح کے معاملے پر پی پی پی اور پی ٹی آئی کا موقف ایک ہی ہے۔ دونوں جماعتیں 11 مئی کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے میں بھی مشترک ہیں تاہم عمران خان آنے والے دنوں میں دھاندلی پر باقاعدہ وائٹ پیپر لانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ پی پی پی اور پی ٹی آئی میں پہلی ہم آہنگی اس وقت دیکھی گئی جب مسلم لیگ (ن) نے یکطرفہ طور پر صدارتی الیکشن کو جلد کرانے کی درخواست کی۔ اس وقت عمران خان بھی الیکشن کا بائیکاٹ چاہتے تھے تاہم جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے کہنے پر انہوں نے اپنے صدارتی امیدوار کو دستبردار نہیں کرایا۔ عمران خان کو توہین عدالت کے نوٹس پر لطیف کھوسہ نے باقاعدہ انہیں قانونی مدد کی پیشکش کردی۔ لطیف کھوسہ نے عمران خان کو دئیے جانے والے توہین عدالت کے نوٹس کو ارکان پارلیمان کیلئے ویک اپ کال قرار دیا اور اسطرح کے نوٹسز جاری کرنے کیلئے مناسب حالات کی حدود کا تعین کرنے کا مطالبہ کیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ جنرل (ر) مشرف کی جانب سے توہین عدالت آرڈیننس 2002ء اس وقت موجود نہیں کیونکہ اسکی توثیق پارلیمنٹ نے نہیں کی لہٰذا پارلیمنٹ کو اس حوالے سے جلد قانون سازی کرنی چاہئے۔ پی پی پی اور پی ٹی آئی کو قریب آنے کا موقع فراہم کرنے میں وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے حالیہ بیان کا بھی کردار ہوسکتا ہے جس میں انہوں نے صوبوں کو گیس کی تقسیم کے فارمولے کو تبدیل کرنے کا کہا ہے۔ دونوں جماعتیں چھوٹے صوبے قدرتی وسائل سے محروم کرنے کے کسی بھی اقدام کے خلاف متحد ہوسکتے ہیں۔ سندھ اور خیبر پی کے گیس اور بجلی کا بڑا حصہ بناتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس حوالے سے بھی اس بیان کی سخت مخالفت کی ہے۔ عمران اگرچہ پی پی پی اور مسلم لیگ دونوں کو ملکی مسائل کی وجہ گردانتے رہے ہیں تاہم اب انہیں آہستہ آہستہ پیپلز پارٹی کے قریب جانا ہوگا۔