برطانوی پارلیمنٹ کے 3 بار رکن بننے والے چودھری سرور آج گورنر پنجاب کا حلف اٹھائینگے

برطانوی پارلیمنٹ کے 3 بار رکن بننے والے چودھری سرور آج گورنر پنجاب کا حلف اٹھائینگے

لاہور (سید شعیب الدین سے) برطانیہ کے 3 مرتبہ ممبر پارلیمنٹ بننے والے پیرمحل ٹوبہ ٹیک سنگھ کے چودھری محمد سرور آج پنجاب کے 35ویں گورنر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عمر عطا بندیال ان سے حلف لینگے۔ تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، صوبائی وزرائ، اعلیٰ سول و فوجی افسران، غیرملکی سفارتکار، معروف شخصیات، چودھری سرور کے اہلخانہ، عزیز و اقارب اور دوست بھی شرکت کرینگے۔ زندگی کے 35 برس برطانیہ میں مسلمانوں اور ہم وطنوں کیلئے آواز بلند کرتے رہنے والے چودھری سرور آج پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے گورنر بن جائیں گے۔ چودھری محمد سرور اپنی برطانوی شہریت ترک کر کے پاکستان آئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کشتیاں جلا کر آئے اور ان کا جینا مرنا اب اپنے وطن کیلئے ہے۔ چودھری محمد سرور 1976ءمیں ترک وطن کر کے بہتر مستقبل کی تلاش میں برطانیہ گئے تھے جہاں انہوں نے 1982ءمیں اپنے بھائی کے ساتھ ملکر ”کیش اینڈ کیری“ کا کاروبار شروع کیا اور آج ان کی کیش اینڈ کیری ایک بڑی چین کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ چودھری محمد سرور نے گلاسگو میں اپنے اوّلین دن سے ہی مسلمانوں اور پاکستانیوں کے کام آنے کا سلسلہ شروع کیا۔ وہ جلد ہی گلاسگو کی ہر دلعزیز شخصیات میں شمار ہونے لگے۔ وہ دو مرتبہ گلاسگو سٹی کونسل کے کونسلر بنے۔ انہوں نے گلاسگو میں یورپ کا سب سے بڑا اسلامک سنٹر بنایا جہاں بچوں کو اسلامی تعلیم بھی دی جاتی ہے جہاں ایک بڑی خوبصورت مسجد بھی ہے۔ چودھری محمد سرور نے بطور کونسلر یاسر عرفات کو گلاسگو مدعو کیا اور 3 دن گلاسگو سٹی کونسل پر فلسطین کا جھنڈا لہراتا رہا۔ 1997ءمیں انہوں نے پہلی بار برطانیہ کے دارالعوام کا الیکشن لڑا اور ممبر پارلیمنٹ بن گئے۔ وہ برطانوی پارلیمنٹ کا ممبر بننے والے پہلے پاکستانی تھے اور پھر وہ دن بھی آیا جب وہ برطانوی پارلیمنٹ میں قرآن پاک پر حلف اٹھانے والے پہلے مسلمان بھی بن گئے۔ چودھری محمد سرور نے ممبر پارلیمنٹ بننے کے بعد اپنے حلقے کے عوام کی خدمت اور ان سے تعلقات کا ایک ایسا ”دلی رشتہ“ استوار کر لیا کہ وہ 2001ءکا الیکشن جیتے اور پھر 2005ءمیں تیسری مرتبہ ممبر پارلیمنٹ منتخب ہو کر ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔ چودھری محمد سرور کی کامیابیوں کا یہ سفر یہیں ختم نہیں ہوا انہوں نے تیسری مدت کے خاتمے کے بعد جب خود میدان چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو اپنے صاحبزادے چودھری انس سرور کو الیکشن میں امیدوار بنایا اور چودھری انس سرور اپنے والد کی چھوڑی نشست پر ممبر پارلیمنٹ بن گئے۔ چودھری محمد سرور نے صرف اپنے حلقہ کے عوام کی خدمت نہیں کی۔ وہ اپنے اس وطن کے غریب عوام کو نہیں بھولے۔ وہ باقاعدگی سے وطن آتے رہے اور اپنے ہم وطنوں کیلئے فلاحی کاموں میں مصروف رہے۔ انہوں نے اپنے آبائی علاقے پیرمحل میں ہسپتال اور سکول بنائے۔ وہ ہر مشکل گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ 3 برس پہلے سیلاب نے ہزاروں لوگوں کو بے گھر کر دیا اور ان کے گھر تباہ کر ڈالے تو چودھری محمد سرور پاکستان پہنچے اور سیلاب میں تباہ ہونے والوں کے لئے بستیاں بسا ڈالیں۔ ان بستیوں میں 750 خوبصورت گھر، مساجد، سکول تیار کر کے سیلاب متاثرین کو آباد کیا گیا۔ چودھری محمد سرور کو انہی خدمات اور پاکستان دوستی کو مدنظر رکھ کر وزیراعظم میاں نوازشریف نے انہیں گورنر پنجاب بنانے کا فیصلہ کیا تو چودھری محمد سرور نے اپنی برطانوی شہریت کو خیرباد کہہ کر اپنے غریب ہم وطنوں کی خدمت کیلئے وطن واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا اور آج صبح وہ پنجاب کے 10 کروڑ عوام کے نئے گورنر کی حیثیت سے حلف اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گورنر کا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے۔ مگر آئین گورنر کو اچھے کام کرنے سے نہیں روکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی گورنر بنیں گے۔ گورنر ہاﺅس کے دروازے سب کیلئے کھلے رہیں گے۔ چودھری محمد سرور کا کہنا ہے کہ وہ صحت اور تعلیم سمیت عوامی مسائل کے حل کیلئے حکومت کے دائیں بازو کے طور پر کام کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ میں صرف میاں خاندان کے میزبان نہیں رہے بلکہ برطانیہ آنیوالے ہر پاکستانی کے میزبان تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کی عدم موجودگی میں ان کا خاندان یہ ذمہ داری نبھاتا رہے گا۔ چودھری محمد سرور کالاباغ ڈیم کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں اب احساس کرنا ہو گا کہ ہم اپنے ہی ملک کا نقصان کر رہے ہیں۔ کالاباغ ڈیم اور دیگر پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ڈیم سستی بجلی پیدا کرنے اور پاکستانی معیشت کا پہیہ چالو رکھنے کیلئے بہت ضروری ہیں۔ چودھری محمد سرور کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم سے سب سے زیادہ فائدہ خیبر پی کے اور پھر سندھ کو ہو گا۔ چودھری محمد سرور کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم بدقسمتی سے متنازعہ اور سیاسی مسئلہ بن گیا ہے اب عمران خان کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ کے حل کیلئے خیبر پی کے میں میدان ہموار کریں۔ ہمیں صرف کالاباغ ڈیم نہیں بلکہ درجنوں چھوٹے بڑے ڈیم بنا کر ہر سال آنیوالے سیلاب پر قابو پانا ہے تاکہ ہر سال ہونیوالے نقصان سے بھی بچا جا سکے۔ چودھری محمد سرور نے برطانیہ میں رہتے ہوئے اور ممبر پارلیمنٹ ہوتے ہوئے فلسطین، کشمیر، افغانستان، عراق سمیت اسلامی دنیا کے تمام مسائل پر مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کی۔ چودھری محمد سرور اپنے دل میں اس ملک کے غریبوں کا درد رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم اور صحت پر ان کی خصوصی توجہ ہو گی کہ آج 70 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے جبکہ غریب دوا نہ ملنے سے مر جاتے ہیں لہٰذا تعلیم خصوصاً سرکاری سکولوں میں اچھی اور مفت تعلیم کی فراہمی بیحد ضروری ہے۔ سرکاری سکولوں میں مفت اور اچھی تعلیم دے کر ہی اگلی نسل کو خواندہ کیا جا سکتا ہے۔ چودھری محمد سرور نے تعلیم اور صحت کے لئے فلاحی منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ رجانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 100 بیڈ کا ہسپتال اور چیچہ وطنی (ساہیوال) میں 70 بیڈ کا ہسپتال ان کی نگرانی میں پہلے ہی چل رہے ہیں اور پیرمحل میں ایک بڑا ایجوکیشن کمپلیکس جہاں سینکڑوں بچے زیر تعلیم ہیں چل رہا ہے۔ انہوں نے ان کاموں کیلئے اپنے جیسے مخلص لوگوں کی ایک ٹیم بنا رکھی ہے جو ان کے ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔ چودھری محمد سرور اب اپنے فلاحی منصوبوں کو پنجاب بھر میں پھیلانے کیلئے بھی کام کر سکتے ہیں انہیں ان منصوبوں کیلئے پہلے بھی برطانیہ سمیت دنیا بھر میں اپنے ساتھی پاکستانی تارکین وطن کی خصوصی حمایت حاصل تھی اور اب جبکہ وہ گورنر بن رہے ہیں تو یقیناً یہ پاکستانی جنہیں چودھری سرور پر اعتماد ہے پاکستان میں مزید فلاحی کاموں کیلئے چودھری سرور کا دست و بازو بنیں گے اور صوبے میں ایک ایسا صحت و تعلیم کا فلاحی نظام فروغ پائے گا جس سے غریبوں کو صحیح معنوں میں سستی تعلیم اور صحت کی سہولت میسر ہو گی۔ دریں اثناءچودھری محمد سرور کے تینوں بیٹے، صاحبزادی اور اہلیہ آج ہونے والی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے پاکستان پہنچ گئے۔ چودھری محمد سرور اور ان کے صاحبزادے ان سرور (جو برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں) گزشتہ روز گورنر ہاﺅس گئے۔