لاہور : ”آج بھٹو زندہ ہوتے تو اقوام عالم کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا“

لاہور (سٹی رپورٹر) پاکستان میں سامراجی قوتوں نے جب بھی اپنے مفادات کے لیے خطرہ محسوس کیا ملک کی مخلص قیادت کو راستے سے ہٹا دیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اگر آج زندہ ہوتے تو پاکستان اور عالم کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا، پاکستان پیپلزپارٹی کا فلسفہ درحقیقت ملک میں غریب اور مزدور عوام کو طاقتور بنانا ہے۔ پیپلز پارٹی اقتدار میں ہونے کے باوجود مسائل کا شکار ہے جس کی وجہ سے وعدوں کی تکمیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ان خیالات کااظہار پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں الطاف قریشی، ڈاکٹر ضیاءاللہ بنگش، عبدالقادر شاہین، سلیم مغل، مظہر اقبال بھلی، فرخ ظہور بٹ، لیاقت بخاری، قیوم نظامی، خالد بخاری نے فیڈرل کونسل پاکستان پیپلزپارٹی کے زیراہتمام لاہور پریس کلب میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 31ویں برسی کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ الطاف قریشی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں ہونے کے باوجودمسائل سے دوچار ہے جس کی وجہ سے وعدوں کی تکمیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا میرا وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ ہے کہ بھٹو سے لیکر آج تک جتنے بھی قتل ہوئے ان سب کی انکوائری کرائی جائے۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو کو قتل نہ کیا جاتا تو پاکستان آج المناک راقعہ سے دوچار نہ ہوتا۔ قیوم نظامی نے کہاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ ضیاءاللہ بنگش، عبدالقادر شاہیں، سلیم مغل، خالد بخاری نے کہا کہ آج صدرزرداری کے خلاف سازشیں کرنے والے وہی عناصر ہیں جنہوں نے بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف سازشیں کیں۔