لاہور میں حساس ادارے کے ریٹائرڈ افسر سمیت 3 افراد قتل

لاہور ( نمائندہ خصوصی) لاہور کے مختلف علاقوں مےں حساس ادارے کے ریٹائرڈ افسر سمیت 3افراد کو قتل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق نصیر آباد کے علاقے سے نامعلوم افراد نے حساس ادارے کے ریٹائر افسر 80سالہ نواز راجہ کو کار اور ڈرائیور سمیت اغوا کرنے کے بعد قتل کر کے افسر کی نعش نشتر کالونی مےں واقع گندے نالے مےں پھینک دی۔ 80سالہ محمد نواز راجہ نصیر آباد کے علاقے مےں واقع عسکری فلیٹس مےں مقیم تھے انہوں نے کلر کہار مےں معدنیات کی کانیں لیز پر لے رکھی ہےں تین روز قبل وہ اپنے ڈرائیور شعیب قادر کے ہمراہ کانوں پر جانے کےلئے روانہ ہوئے مگر اس کے بعد ان کا موبائل فون بند ہونے کی وجہ سے اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہوگیا اہل خانہ نے کلرکہار سے بھی معلوم کیا مگر ان کی وہاں موجودگی کا کوئی ثبوت نہ ملا جس پر تھانہ نصیر آباد مےں محمد نواز راجہ کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا گیا تاہم گذشتہ شب نشتر کالونی کے علاقے مےں واقع ایک گندے نالے سے ان کی نعش ملی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کی جیب مےں اڑھائی لاکھ روپے تھے اور ان کا ڈرائیور بھی گاڑی سمیت غائب ہے، شبہ ہے کہ وہی اس واردات مےں ملوث ہو سکتا ہے۔ جوہر ٹاﺅن کے علاقے ڈی ون بلاک میں موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے کار سوار فروٹ منڈی کے آڑھتی کو جبکہ مغل پورہ مےں دیرینہ دشمنی پر 4افراد نے فائرنگ کر کے 4بچوں کے باپ رکشہ ڈرائیور کو قتل کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکپتن کے رہائشی خورشید نے دو شادیاں کر رکھیں تھی اس کی ایک بیوی پاکپتن میں ہے جبکہ دوسری لاہور میں رہتی ہے خورشید فروٹ منڈی بتی چوک میں فروٹ کی آڑھت کرتا تھا گزشتہ دوپہر کو وہ کار میں سوار ہو کر جوہر ٹاﺅن ڈی ون بلاک سے گزر ر ہا تھا کہ موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے اس پر فائرنگ کر دی۔ مقتول کے چچا زاد محمد احمد نے بتایا ہے کہ مقتول کی لیاقت آباد سبزی منڈی میں ایک شخص سے دشمنی چلی آرہی تھی مقدمہ بھی درج ہے۔ مقتول چار بچوں کا باپ تھا۔ ادھر مغل پورہ کے علاقے میلاد چوک نبی پورہ میں دیرینہ دشمنی پر چار افراد نے فائرنگ کرکے چار بچوں کے باپ رکشہ ڈرائیور کو قتل کر دیا۔ دیر کے رہائشی 30سالہ رب نواز خان کی دیر کے رہائشی دو بھائیوں عثمان خان اور مجیب اللہ سے پرانی عداوت چلی آرہی تھی 10سال قبل اس دشمنی سے تنگ آکر لاہور کے علاقے بیگم کورٹ مغل پورہ منتقل ہوگیا۔ گذشتہ روز رکشہ لیکر میلاد چوک میں سواریوں کے انتظار میں کھڑا تھا کہ مخالفین نے رکشہ میں ہی فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔ مقتول کی بیوی عمرمینا کی رپورٹ پرملزمان عثمان ، مجیب اللہ ، ابرار اور خائیت خان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔