لاہور : جناح ہسپتال کے ڈاکٹرز و سٹاف کا مریضہ اور اس کے بھائیوں پر تشدد‘ گھنٹوں یرغمال بنائے رکھا

لاہور (نمائندہ خصوصی + نیوز رپورٹر) جناح ہسپتال میں ڈاکٹروں‘ پیرامیڈیکل اور سکیورٹی سٹاف نے اتوار کے روز پھر ایک مریضہ اور اس کے لواحقین کو شدید تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور کمرے میں بند کر کے کئی گھنٹے حبس بے جا میں رکھا۔ سینکڑوں افراد کے ہسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرہ پر پولیس نے مذاکرات کے ذریعے محبوسین کو رہا کرایا۔ ادھر لاہور سمیت پنجاب بھر میں ڈاکٹروں کی طرف سے ہسپتالوں میں کام بند رکھنے کے باعث پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس میں مریضوں کا رش کئی گنا بڑھ گیا۔ غریب مریضوں کو پرائیویٹ علاج کےلئے کئی گنا اضافی رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق شوکت خانم روڈ پر واقع پیر منصور کالونی کی رہائشی ایم اے کی ایک طالبہ گذشتہ روز بلڈ پریشر کم ہونے پر بے ہوش ہو گئی“ اس کی والدہ‘ دو بھائی ایم ایس ایف کا راہنما ناصر خان اور آصف خان اسے جناح ہسپتال لے گئے۔ ایمرجنسی وارڈ میں مرد پیرامیڈیکل سٹاف نے اہلخانہ کو باہر روک کر بے ہوش طالبہ کو اکیلی کو اندر کمرے میں لے جانا چاہا۔ اس کے بھائیوں نے کہا کہ وہ خود اسے بیڈ پر منتقل کر دیتے ہیں۔ پیرامیڈیکل اہلکاروں نے الجھنا شروع کر دیا اسی دوران ڈاکٹر جمع ہو گئے اور مریضہ کے بھائیوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ ایک ڈاکٹر نے آصف خان کے سر میں لوہے کا راڈ مارا جس سے شدید زخمی ہو کر وہ موقع پر ہی بے ہوش ہوگیا۔ بوڑھی ماں بیٹی کا غم بھول کر بیٹے کی بے ہوشی پر صدمے سے نڈھال تھی ڈاکٹروں نے دو سکیورٹی گارڈز کو حکم دیا کہ انہیں جانے نہ دیا جائے اور دوسرے بھائی ناصر خاں کو اٹھا کر ایک دوسرے کمرے میں لے گئے جہاں 3 گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھ کر اس پر شدید تشدد کیا۔ اس دوران الیکٹرانک میڈیا پر خبر چلنے پر پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی دوسری جانب یرغمالی مریضہ کے سینکڑوں لواحقین اور محلہ دار بھی آگئے اور ہسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرہ شروع کر دیا۔ ڈاکٹروں نے دونوں بہن بھائےوں کا علاج کرنے سے انکار کر دیا۔ دونوں کو پرائیویٹ کلینک میں منتقل کرنا پڑا۔ مظاہرین نے ڈاکٹروں اور حکومت پنجاب کے خلاف نعرہ بازی کی۔ دریں اثناءلاہور کے تمام سرکاری ہسپتالوں جناح، سروسز، گنگا رام، چلڈرن، جنرل، لیڈی ایچی سن اور لیڈی ولنگڈن میں ایک ایک بیڈ پر 3 تین مریضوں کو لٹایا جاتا ہے۔ سروسز ہسپتال کی گائنی وارڈ میں ایک بیڈ پر 4 خواتین کو بیک وقت لٹا دیا جاتا ہے جن کے انتہائی سیریس آپریشن کئے جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں متعدد بار خواتین کے زچگی کے دوران لگائے گئے ٹانکے کھل جاتے ہیں اور انہیں مختلف پیچیدہ بیماریاں لگ جاتی ہیں۔ بعض کی ہلاکت بھی اس وجہ سے ہوتی ہے۔ ادھر اتوار کے روز بھی سرکاری ہسپتالوں میں مریض خوار ہوتے اور ڈاکٹرز کو بددعائیں دیتے ہوئے پرائیویٹ ہسپتالوں کا رُخ کر رہے ہیں۔ ادھر جام پور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی اور نازیبا بینر آویزاں کیا گیا ہے۔ ضلع بھر کے صحافیوںنے شدید احتجاج کیا ہے۔ جی این آئی کے مطابق پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے ایک بیان میں لاہور میں 100 سے زائد صحافیوں کے خلاف سنگین فوجداری دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پولیس کے اس اقدام سے ثابت ہوگیا ہے کہ پنجاب حکومت اور پولیس کی ملی بھگت سے صحافیوں کو اعصابی دباﺅ میں رکھ کر حقائق پر مبنی رپورٹنگ اور عوام کو سچ دکھانے اور سچ پہنچانے کے عمل سے پرخاش رکھتی ہے۔