چیئرمین نیب کی تقرری میں تاخیر معنی خیز ہے: منور حسن

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے چیئرمین نیب کی تقرری میں غیر ضروری تاخیر یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کرپشن کے مقدمات کو نہیں کھولنا چاہتی کیونکہ اسے خوف ہے کہ حکومتی پارٹی کے جو افراد کرپشن میں ملوث ہیں، ان کے خلاف بھی مقدمات شروع ہو سکتے ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کی کرپشن کو چھپانے کے لیے ’’ایکا‘‘ کر لیا ہے ۔ چیئرمین نیب کی تقرری میں تاخیر معنی خیز ہے ۔ عوام پر بجلی و پٹرول بم گرانے کے بجائے حکمران بیرون ملک سے اپنی دولت ملک میں واپس لائیں ۔سابق صدر آصف زرداری کے ملک سے خاموشی سے چلے جانے کی خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان ’’ڈیل‘‘ ہو گئی ہے ۔ صدارت ختم ہونے کے ساتھ زرداری کا استثنیٰ ختم ہو گیا ہے، حکمرانوں نے ان کے خلاف کرپشن کے مقدمات نہ کھول کر زرداری کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ حکومت کی ساڑھے تین ماہ کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے ۔ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مہنگائی کا عذاب مسلط کر کے ان کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے۔  ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ  روز منصورہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ منور حسن نے کہاکہ عوام نے اس امید پر مسلم لیگ ن کو ووٹ دیئے تھے کہ اس نے اپنے منشور میں جو وعدے کیے ہیں ،برسراقتدار آ کر ان پر عمل کرتے ہوئے وہ مہنگائی کے مارے عوام کو ریلیف دے گی ۔ لوڈشیڈنگ ، بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی اور ملکی حالات ٹھیک کرے گی لیکن اس کے برعکس ساڑھے تین ماہ میں ہی مسلم لیگ ن  کی حکومت نے عوام کو زندہ در گور کر دیا ہے۔ چار بار پٹرول و بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا سونامی آ چکا ہے۔  شہبازشریف ہر تقریر میں علی بابا چالیس چوروں سے رقم نکلوانے کی بات کیا کرتے تھے، وہ نعرہ اب کہاں گیا۔ انہوں نے  الزام لگایا کہ   نوازشریف نے اپنے سابقہ ادوار حکومت میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کر کے بیرون ملک جائیدادیں بنائیں اور کاروبار شروع کیے۔ وہ اپنا آدھا پیسہ بھی واپس لے آتے تو آئی ایم ایف کا پھندا ملک و قوم کے گلے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں تھی۔