پنجاب میں بنجر اراضی زیر کاشت لانے کی کوششیں ناکام، ساڑھے 32 ہزار ایکڑ بدستور موجود

لاہور (میاں علی افضل سے) پنجاب حکومت صوبہ بھر میں بنجر زمینوں کو زیر کاشت لانے میں ناکام ہو گئی حکومتی کوششوں کے باوجود تاحال 32ہزار 438ایکڑ سے زائد زمین پنجر پڑی ہے بنجر زمین زیر کاشت لانے سے زرعی اجناس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے پنجر زمینوں کو سستے داموں لیز پر دینے سے جہاں ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے وہیں لیز کی مد میں حکومت کو اربوں روپے ریونیو مل سکتا ہے جبکہ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے سے مہنگائی میں بہت زیادہ کمی آ ئے گی فیصل آباد ڈویژن 9ہزار 288ایکڑ 6کنال 22مرلے پنجر زمین کیساتھ پنجاب بھر میں پہلے نمبر پرجبکہ ڈی جی خان 8ہزار 55ایکڑ بنجر زمین کیساتھ دوسرے اور سرگودھا ڈویژن 5ہزار 1سو28ایکڑ کیساتھ تیسے نمبر پر ہے لاہور ڈویژن میں مجموعی طور پر 1ہزار 850ایکڑ 13کنال 30مرلے ،ساہیوال ڈویژن میں 3ہزار 14ایکڑملتان دویژن میں 1ہزار 224ایکڑ 4کنال 14مرلے ،گوجرانوالہ ڈویژن میں 438ایکڑ 2کنال 8مرلے اور راولپنڈی ڈویژن میں 3ہزار 438ایکڑ بنجر، ضلع قصور میں 84ایکڑ 6کنال 13مرلے، شیخوپورہ 263ایکڑ3کنال 8مرلے ،ننکانہ صاحب 1ہزار 503ایکڑ 4کنال 9مرلے ،فیصل آباد 1ہزار 575ایکڑ ،ٹوبہ ٹیک سنگھ 7ہزار 676ایکڑ 5کنال 19مرلے ،چینوٹ 39ایکڑ 1کنال 3مرلے ،ساہیوال 823ایکڑ ،اوکاڑہ میں 2ہزار 191ایکڑ ،وہاڑی میں 34ایکڑ ،خانیوال 699ایکڑ 14کنال ،لودھراں 491ایکڑ4کنال، میانوالی میں 266ایکڑ، بھکر میں 154ایکڑ، نارووال میں 381ایکڑ، منڈی بہائوالدین میں 57 ایکڑ 2کنال 8مرلے اور چکوال میں 3ہزار 438ایکڑ زمین بنجر پڑی ہے۔