دردکش ادویات کا بڑھتا استعمال، کرکٹ بورڈ کا کھلاڑیوں کے ٹارگٹڈ ڈوپ ٹیسٹ کا فیصلہ

لاہور (حافظ محمد عمران/نمائندہ سپورٹس) پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئندہ فرسٹ کلاس سیزن میں کھلاڑیوں کے ٹارگٹڈ ڈوپ ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق سیزن 2015-16 کے دوران ملک بھر میں ہونیوالے ڈومیسٹک کرکٹ کے مقابلوں میں کرکٹرز کے سر پر ہر وقت ڈوپ ٹیسٹ کے خطرے کی تلوار لٹکتی رہے گی۔ ماضی کھلاڑیوں کے رینڈم ڈوپ ٹیسٹ ہوتے تھے۔ رینڈم ڈوپ ٹیسٹ میں کرکٹرز کے ناموں کی پرچیاں ڈالی جاتی تھیں جس کھلاڑی کا نام نکلتا تھا، اس کا ڈوپ ٹیسٹ کیا جاتا تھا۔ تاہم قومی سطح کی کرکٹ میں بورڈ میں کھلاڑیوں میں درد کش ادویات کے استعمال کے بڑھتے رجحان نے کرکٹ بورڈ کو ٹارگٹڈ ڈوپ ٹیسٹ کا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے میں قومی سطح کی کرکٹ میں کھلاڑیوں میں نشہ آور چیزوں کے استعمال میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ حال ہی میں انٹر نیشنل کرکٹر رضا حسن کے ڈوپ ٹیسٹ میں بھی کوکین کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ ٹارگٹڈ ڈوپ ٹیسٹ میں کسی بھی کھلاڑی کو ڈوپ ٹیسٹ کے لیے کال کیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص جو بھی کھلاڑی عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرے گا اسے ڈوپ ٹیسٹ کے مرحلے سے گذرنا پڑے گا۔ ذرائع کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ میں بڑی عمر کے کھلاڑی قوت میں اضافے اور مسلز کو مضبوط کرنے والی ادویات استعمال کرکے میچز میں حصہ لیتے ہیں، اس وجہ سے بہت سے حقدار اور جاندار کرکٹرز کی حق تلفی بھی ہوتی ہے اور جسمانی طور پر ان فٹ کھلاڑی ناجائز طریقے سے عمدہ پرفارمنس دیکر آگے آجاتے ہیں۔ اس رجحان سے نہ صرف ٹیلنٹ ضائع ہورہا ہے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ منفی طریقوں سے آگے بڑھنے کی غلط روایت بھی فروغ پا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹارگٹڈ ڈوپ ٹیسٹ کی پالیسی کے نفاذ سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں نوجوان کھلاڑیوں کیلئے زیادہ مواقع پیدا ہونگے اور منفی طریقوں سے فٹ رہ کر کھیلنے والے کھلاڑیوں کی حقیقت بھی کھیل کر سامنے آجائے گی ۔