حکومت اقتصادی راہداری پر عوام کو اعتماد میں لے، بتایا جائے اکنامک زون کہاں بنیں گے: سراج الحق

حکومت اقتصادی راہداری پر عوام کو اعتماد میں لے، بتایا جائے اکنامک زون کہاں بنیں گے: سراج الحق

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے امید ظاہر کی ہے کہ مرکزی حکومت پاک چائناکوریڈور کے بارے میں عوام کو اعتماد میں لے گی اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے اس عظیم الشان منصوبے کو متنازع نہیں بننے دے گی۔ حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ اکنامک زونز کہاں کہاں بنائے جارہے ہیں، حکومت اس اہم منصوبے پر وسیع تر قومی مشاورت کا انتظام کرے، قوم کو اندھیرے میں رکھنے سے اس پر تحفظات اور شکوک و شبہات بڑھیں گے جو نہ صرف پاک چائنا اکنامک کوریڈور بلکہ قومی یکجہتی کیلئے بھی انتہائی نقصان دہ ہوگا۔ کاشغر گوادر روڈ کو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازعہ نہ بنایا جائے اور منصوبے میں مالاکنڈ اور چترال کو شامل کیا جائے۔ خیبر پی کے کے علاقے جندول میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت پاک چائنا دوستی اور باہمی تعاون کو بڑھتا اور پھلتا پھولتا دیکھ کر سخت پریشانی میں مبتلا ہے اور پاکستان اور چین کے درمیان 46ارب ڈالر کے معاہدے طے پانے کے بعد سے اس نے اپنی سازشوںکا دائرہ مزید بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے اندھے گونگے اور بہرے حکمرانوں پر غربت اور تنگ دستی کے مارے عوام کی سسکیوں اور چیخوں کا کوئی اثر نہیں ہورہا۔ عوام کا کام صرف ٹیکس اور ووٹ دینا رہ گیا ہے۔ غربت مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی اس ظالمانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور عام آدمی کو تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولتیں دلوانے کیلئے میدان میں آئی، سراج الحق نے کہا کہ جب تک عوام خود اس ظالم اشرافیہ کے خلاف نہیں اٹھیں گے اور ان سانپوں اور بچھوئوں کو دودھ پلاتے رہیں گے یہ ظلم وجبر کا نظام ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ و موجودہ حکمرانوں نے صحافی برادری کے تحفظ کیلئے کچھ نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے قومی اسمبلی میں صحافیوں کے تحفظ کا بل جمع کرایا۔دریں اثنا امیر جماعت اسلامی نے افغان حکومت کے نمائندہ وفد کی قطر روانگی اور طالبان اور دیگر متحرک گروپوں کے ساتھ مذاکرات کے عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان اور افغانستان میں متحرک گروپوں کے ساتھ مذاکرات سے امن کا سلسلہ آگے بڑھے گا جس کے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔