این ٹی ڈی سی‘ پیپکو کے درمیان نظام میں موجود بجلی کی صلاحیت پر اتفاق رائے نہ ہو سکا

این ٹی ڈی سی‘ پیپکو کے درمیان نظام میں موجود بجلی کی صلاحیت پر اتفاق رائے نہ ہو سکا

لاہور (ندیم بسرا) بجلی کے شعبے کی بہتری اور منصوبہ بندی پر کام کرنے والے دو بڑے اداروں این ٹی ڈی سی اور پیپکو کے درمیان نظام میں موجود بجلی پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ دونوں اداروں کے درمیان بجلی کی انسٹال صلاحیت کا فرق 2849 میگاواٹ ہے۔ اطلاعات کے مطابق نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کا یہ ماننا ہے کہ بجلی کے نظام میں اس وقت انسٹال صلاحیت 24 ہزار 953 میگاواٹ ہے جبکہ پیپکو یہ اعداد و شمار ماننے سے انکار کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس وقت نظام میں کل بجلی 22 ہزار 104 میگاواٹ بنانے کی صلاحیت ہے۔ اس صورت حال کے بعد بجلی کی مکمل طلب کے حوالے سے بھی ان کی آرا مختلف ہے۔ این ٹی ڈی سی کے ذرائع کے مطابق یہ کمپنی اپنے ذرائع اور اعداد و شمار کے مطابق وزارت پانی و بجلی کو بریفنگ دیتی ہے جبکہ پیپکو اپنی رائے اپنے اعداد و شمار کے مطابق دیتا ہے۔ دلچسپ بات اس وقت شروع ہوتی ہے جب بجلی کی کل طلب معلوم کرنا ہوتی ہے این ٹی ڈی سی کے اعداد و شمار کے مطابق نظام میں موجود بجلی (واپڈا ہائیڈرو) سے 6902 میگاواٹ، تھرمل (پبلک) سے 7880 میگاواٹ، آئی پی پی (ہائیڈرو) سے 195 میگاواٹ، آئی پی پی (تھرمل) سے 9083 میگاواٹ، نیوکلیئر انرجی سے 787 میگاواٹ اور ونڈ انرجی سے 106 میگاواٹ بجلی تیار ہوکر 24953 میگاواٹ کی صلاحیت موجود ہے۔ بجلی کی ڈیمانڈ قریباً 23 ہزار 44 میگاواٹ بنتی ہے جبکہ پیپکو کاکہنا ہے کہ واپڈا ہائیڈرو سے 6902 میگاواٹ، تھرمل جینکوز سے 5458، آئی پی پی ہائیڈل سے 195، آئی پی پی (تھرمل) سے 8793، نیوکلیئر انرجی سے 650 اور ونڈ سے 106 میگاواٹ بجلی نظام میں ہے۔ صارفین کی کل بجلی کی ڈیمانڈ 20 ہزار 576 میگاواٹ ہے۔ دونوں اداروں کے درمیان نظام میں موجود بجلی کی کل صلاحیت پر 2849 میگاواٹ جبکہ دونوں کے درمیان ملک میں بجلی کی کل ڈیمانڈ پر تقریباً 2468 میگاواٹ کا واضح فرق موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں اداروں کے درمیان کوآرڈی نیشن نہ ہونے سے وزارت پانی و بجلی ملک میں بجلی کی انسٹال صلاحیت اور بجلی کی کل ڈیمانڈ صحیح طور پر بتانے سے آج تک گریزاں ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ این ٹی ڈی سی کا شعبہ پلاننگ اس حوالے سے تمام اعداد و شمار وزارت پانی و بجلی کو ہر سال بھیجتا ہے مگر وزارت اس حوالے سے کبھی نوٹس نہیں لیتی۔ دونوں اداروں کے درمیان اعداد و شمار کی غلط صحیح کی جنگ ابھی تک جاری ہے۔