الطاف کی تقریر نامناسب تھی، الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کرنا چاہئے: قمر زمان کائرہ

الطاف کی تقریر نامناسب تھی، الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کرنا چاہئے: قمر زمان کائرہ

لاہور (سید شعیب الدین سے) پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے پاکستان کی سیاست میں فوج کے کردار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے مشرقی پاکستان میں فوج کی مداخلت، گیارہ سالہ دور حکومت میں ضیاالحق کا کردار (جس میں بھٹو کی پھانسی شامل تھی) آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل کا آئی جے آئی قائم کرنے کا دعویٰ، پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل اسلم بیگ کی طرف سے سیاستدانوں میں سرمائے کی تقسیم اور جنرل مشرف کا 8 سالہ دور ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ نوائے وقت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے پاک فوج پر کڑی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تقریر میں الفاظ انتہائی نامناسب تھے، الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کیا جانا چاہئے تھا۔ اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں قربتیں بڑھ رہی ہیں، کائرہ نے کہا الطاف حسین کی طرف سے یہ الزام عائد کرنا کہ ایس ایس پی انوار کی پریس کانفرنس کے پیچھے کراچی میں ہونیوالی ”تین بڑوں“ کی ملاقات کے فیصلوں کا ہاتھ تھا، درست نہیں۔ مزید الطاف حسین نے آصف زرداری اور قائم علی شاہ کی ملاقات میں تیسرے فرد کا نام بتانے سے بھی گریز کیا۔ انہوں نے کہا ایم کیو ایم کی یہ سوچ درست نہیں کہ آپریشن صرف انکے زیر اثر علاقوں میں ہورہا ہے، درحقیقت آپریشن پورے کراچی میں بلاتمیز شرکت غیر ہورہا ہے لہٰذا الطاف حسین کے پاس سیخ پا ہونے کا جواز نہیں تھا۔ انہوں نے کہا مناسب ہوگا معذرت کے ساتھ متعلقہ اداروں سے معاملات کو بہتر کرلیا جائے۔ تاہم ادارے اسے ناکافی سمجھتے ہیں تو اس معاملے کا فیصلہ عدالت کے سپرد کردینا چاہئے۔ ایس ایس پی راﺅ کو عہدے سے ہٹائے جانے اور معطل کئے جانے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا یہ اقدام پولیس رولز کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ کیونکہ ضابطے کے حوالے سے انہیں کسی سیاسی جماعت کے بارے میں ایسی گفتگو کرنے کا اختیار نہیں۔ آصف زرداری اور بلاول زرداری کے درمیان اختلافات کی خبروں اور ان کے باہمی تعلقات میں بگاڑ کے بارے میں سوال پر کائرہ نے کہا یہ سب بے بنیاد قیاس آرائیاں ہیں۔ پارٹی چیئرمین چند ہفتے بعد پاکستان واپس آکر پارٹی قائد کی حیثیت سے اپنا کام سرانجام دیں گے۔
قمر زمان کائرہ



 ہوئے کہا ہے مشرقی پاکستان میں فوج کی مداخلت، گیارہ سالہ دور حکومت میں ضیاالحق کا کردار (جس میں بھٹو کی پھانسی شامل تھی) آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل کا آئی جے آئی قائم کرنے کا دعویٰ، پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل اسلم بیگ کی طرف سے سیاستدانوں میں سرمائے کی تقسیم اور جنرل مشرف کا 8 سالہ دور ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ نوائے وقت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے پاک فوج پر کڑی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تقریر میں الفاظ انتہائی نامناسب تھے، الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کیا جانا چاہئے تھا۔ اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں قربتیں بڑھ رہی ہیں، کائرہ نے کہا الطاف حسین کی طرف سے یہ الزام عائد کرنا کہ ایس ایس پی انوار کی پریس کانفرنس کے پیچھے کراچی میں ہونیوالی ”تین بڑوں“ کی ملاقات کے فیصلوں کا ہاتھ تھا، درست نہیں۔ مزید الطاف حسین نے آصف زرداری اور قائم علی شاہ کی ملاقات میں تیسرے فرد کا نام بتانے سے بھی گریز کیا۔ انہوں نے کہا ایم کیو ایم کی یہ سوچ درست نہیں کہ آپریشن صرف انکے زیر اثر علاقوں میں ہورہا ہے، درحقیقت آپریشن پورے کراچی میں بلاتمیز شرکت غیر ہورہا ہے لہٰذا الطاف حسین کے پاس سیخ پا ہونے کا جواز نہیں تھا۔ انہوں نے کہا مناسب ہوگا معذرت کے ساتھ متعلقہ اداروں سے معاملات کو بہتر کرلیا جائے۔ تاہم ادارے اسے ناکافی سمجھتے ہیں تو اس معاملے کا فیصلہ عدالت کے سپرد کردینا چاہئے۔ ایس ایس پی راﺅ کو عہدے سے ہٹائے جانے اور معطل کئے جانے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا یہ اقدام پولیس رولز کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ کیونکہ ضابطے کے حوالے سے انہیں کسی سیاسی جماعت کے بارے میں ایسی گفتگو کرنے کا اختیار نہیں۔ آصف زرداری اور بلاول زرداری کے درمیان اختلافات کی خبروں اور ان کے باہمی تعلقات میں بگاڑ کے بارے میں سوال پر کائرہ نے کہا یہ سب بے بنیاد قیاس آرائیاں ہیں۔ پارٹی چیئرمین چند ہفتے بعد پاکستان واپس آکر پارٹی قائد کی حیثیت سے اپنا کام سرانجام دیں گے۔
قمر زمان کائرہ