لیاقت علی خاں کے بیٹے کو 1958ء میں الاٹ زمین اسسٹنٹ کمشنر نے منسوخ کر دی، پہلے وزیراعظم کے پوتے، پوتیاں کرائے کے مکان میں رہنے پر مجبور

لاہور (آئی این پی) پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے کو 1958ء میں الاٹ ہونے والی زمین 57 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک نہیں مل سکی‘ ملک کے پہلے وزیراعظم کے پوتے پوتیاں کرائے کے مکان میں رہنے پر مجبور لیکن زمین کا قطعہ نہیں مل سکا۔ لیاقت علی خان کی پہلی بیوی سے ان کے اکلوتے بیٹے رضا ولایت علی خان کی پوتی قیصر جہاں اور پڑ پوتے رستم علی خان کے مطابق ان کے دادا رضا ولایت علی خان کو 1958ء میں اربن سٹی لینڈ کے تحت گوجرانوالہ میں 61 کنال 12 مرلہ زمین الاٹ ہوئی تھی جو بعد میں امپرومنٹ ٹرسٹ نے لے لی اور انہیں اس کے متبادل شہر میں 28 کنال زمین الاٹ کر دی گئی لیکن بدقسمتی سے وہی زمین پہلے بھی کسی دوسرے شخص کو الاٹ تھی اس نے سپریم کورٹ میں کیس کیا تو عدالت نے 1987ء میں اس کے حق میں فیصلہ دیدیا اور 1992ء میں چیف کمشنر ریونیو کے حکم پر ہمیں 1993ء میں ایک بار پھر اس زمین کے متبادل میں لاہور کے علاقے ہربنس پورہ میں 25 کنال زمین پلاٹوں کی شکل میں الاٹ کر دی گئی لیکن پھر 1995ء میں اسسٹنٹ کمشنر نے یہ الاٹمنٹ منسوخ کر دی جس کے بعد آج تک ہم زمین کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔