عدالت میں معاملہ طے پانے کے باوجود بھارت کا پاکستانی ڈرائیور کو وطن جانے کی اجازت دینے سے انکار

لاہور (خبرنگار) بھارت نے پاکستانی ٹرک ڈرائیور علی محمد کو عدالت میں معاملہ طے پا جانے کے باوجود پاکستان واپس جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ علی محمد کے ساتھی ٹرک ڈرائیور اور واہگہ بارڈر پر کام کرنے والے مزدوروں نے اپنے ساتھی کی واپسی کیلئے پاکستان بھارت تجارت بند کرنے کی دھمکی دے دی۔ آج واہگہ بارڈر پر صبح 10 بجے کام بند کرکے بھارتی حکام کے خلاف مظاہرہ کریں گے۔ علی محمد 28 اپریل کو جپسم سے بھرا ٹرک لے کر سرحد پار گیا تھا، ٹرک ریورس کرتے ہوئے ایک بھارتی مزدور ٹرک تلے آکر کچلا گیا جس پر بھارتی پولیس نے علی محمد کو گرفتار کرلیا۔ 10 دن کے طویل وقفے کے بعد نئی دہلی سے پاکستانی ہائی کمشن کا وکیل امرتسر پہنچا۔ جپسم کے درآمد کنندہ راج دیپ سنگھ نے بھارتی مزدور کے اہل خانہ کو 7 لاکھ روپے معاوضہ لے کر کیس ختم کرنے پر راضی کرلیا۔ مرنے والے بھارتی مزدور کے اہل خانہ نے عدالت میں پیش ہوکر لکھ کر دے دیا جس کے بعد عدالت نے علی محمد کو رہا کردیا مگر 29 جولائی کو پیشی کے احکامات بھی جاری کردیئے تاکہ اس تاریخ پر ایف آئی آر ختم کرکے علی محمد کو بری کردیا جائے۔ علی محمد عدالتی احکامات کے بعد سے راج دیپ سنگھ کے پاس مقیم ہے۔ بھارتی کسٹم اور امیگریشن حکام اسے وطن واپسی کی اجازت نہیں دے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت سے لکھوا کر لایا جائے یا 27 جولائی تک عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔