لاہور: ساڑھے پانچ ماہ کے دوران 1094خواتین نے دارالامان میں پناہ لی

لاہور: ساڑھے پانچ ماہ کے دوران 1094خواتین نے دارالامان میں پناہ لی

لاہور (شہزادہ خالد رشید) رواں سال 16مارچ سے 31 اگست تک ساڑھے 5 ماہ کے دوران صوبائی دارالحکومت کی مختلف عدالتوں کے ذریعے 1094خواتین دارالامان بھیجی گئی ہیں جن میں اکثریت شادی شدہ خواتین کی ہے۔ بعض خواتین بھارتی چینلز کے بیہودہ ڈراموں سے اثر لے کر بے راہ روی کا شکار ہوئیں اور اپنے عاشقوں کے ورغلانے پر گھر چھوڑ دیا۔ متعدد خواتین کو شادی کے بعد شوہروں نے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا، درجنوں کو نام نہاد عاشقوں نے دوستوں سے مل کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ یکم اگست سے 31 اگست تک ایک ماہ کے دوران 65 خواتین دارالامان بھیجی گئیں۔ 31اگست کو آنے والی 1093ویں خاتون صائمہ نور کو سپیشل مجسٹریٹ ضلع کچہری لاہور ایم سرمد تیمور نے دارالامان بھیجا۔ صائمہ نور زوجہ ارشد نواز تلہ گنگ ضلع چکوال کی رہائشی ہے۔ صائمہ نے بتایا میرا خاوند مجھ پر تشدد کرتا ہے، میری ساس اور سسر بھی مجھ پر ظلم کرتے ہیں۔ 20 سالہ صائمہ کی شادی 3 سال قبل ہوئی تھی اور اس کے کوئی اولاد نہ ہونے پر اُسے ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ 31 اگست کو دارالامان آنے والی آخری خاتون روزینہ اختر زوجہ عاشق تھی جسے سپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ ماڈل ٹاﺅن محمد افضل بٹ نے دارالامان بھیجا۔ اپنے 6 سالہ بیٹے اسد کے ہمراہ آنے والی چونگی امرسدھو کی رہائشی روزینہ نے بتایا میرا خاوند مجھ پر بے پناہ تشدد کرتا ہے۔ ایک خاتون نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چار سال قبل میں نے گھر سے بھاگ کر شادی کی۔ میرا اپنے خاوند سے فون پر رابطہ ہوا حالانکہ میرے گھر والوں نے میری منگنی کر رکھی تھی۔ اس نے بتایا کہ میری دو بیٹیاں ہیں جو میرے خاوند کے پاس ہیں اس نے کہاکہ میں نے پہلے خودکشی کا سوچا تھا پھر ارادہ ملتوی کر دیا۔ اس نے روتے ہوئے کہاکہ میں اب بہت پچھتا رہی ہوں۔ مجھے اپنی ماں کی بہت یاد آتی ہے مگر گھر واپس نہیں جا سکتی۔