پرنسپل آف پالیسی پر عمل نہیں ہوا، صدر، گورنر کیخلاف کارروائی کیلئے ہائیکورٹ میں رٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ میں صدر پاکستان اور گورنر پنجاب کے خلاف آئین کے آرٹیکل 29 (3) کے تحت رہنما اصول (پرنسپل آف پالیسی) پر عمل درآمد نہ کرنے پر آئینی رٹ درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 29 (3) کے تحت پرنسپل آف پالیسی پر عملدرآمد کےلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکر دگی کے بارے میں صدر پاکستان کو پارلیمنٹ اور گورنرز کو صوبائی اسمبلیوں میں ایک رہنمائی پر مشتمل رپورٹ پیش کرنا ہوتی ہے جس کا مقصد عوامی نمائندوں کو یہ پوچھنا ہوتا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 31 سے 40 تک میں دیئے گئے اصولوں پر کیا کیا عملدرآمد ہوا۔ رٹ میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے صدر پاکستان اور چاروں گورنروں کو قانونی نوٹس کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 19اے کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ حکومت کے پانچوں سال کی کارگردگی اور رہنما اصولوں پر عملدرآمد کے لئے ایک شہری کی حیثیت سے رپورٹس کی کاپیاں مانگی گئیں۔ بعد از تحقیق سے پتہ چلا کہ ایسی کوئی رپورٹ موجودہ اسمبلیوں نے صدر اور گورنر کے ذریعے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں داخل نہیں کی۔ قانونی نوٹس کے ذریعے 7 دنوں کا وقت دیا گیا مگر کوئی جواب وصول نہیں ہوا۔ فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ صدر اور گورنر کو آئین کے آرٹیکل 29(3) کو سامنے رکھتے ہوئے ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ پانچوں سال موجودہ حکومتوں کی کارگردگی کے بارے میں رہنما اصولوں (پرنسپل آف پالیسی) کو سامنے رکھتے ہوئے رپورٹیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں داخل کریں تاکہ عوام کو موجودہ حکومتوں کی کارگردگی کے بارے میں علم ہو۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر آئین پر عمل نہیں ہوگا اور آئین کو توڑا جائیگا تو آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت صدر کے خلاف مواخذے کی کاروائی ہو سکتی ہے۔ فاضل عدالت سے مزید استدعا کی گئی ہے کہ اعلیٰ آئینی عہدیداران اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں لہٰذا اِن عہدیداروں کے خلاف قانون کے مطابق مناسب کاروائی کی جائے۔ رٹ درخواست کی ابتدائی سماعت کل بروز پیر کئے جانے کا امکان ہے۔