انصاف کی فراہمی کو مشکل کام سمجھنے والے ججز گھر چلے جائیں: جسٹس طارق مسعود

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا ہے کہ ہم نے اپنی مشکلات کو پس پشت ڈال کر لوگوں کو انصاف مہیا کرنا ہے اور عدلیہ کے ادارے کو مضبوط کرنا ہے۔ ہم جج، اللہ کے نائب ہیں اور روز آخرت اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہیں۔ فاضل جسٹس نے جوڈیشل اکیڈمی میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں اور سول ججوں کے تربیتی کورسز کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص عقل کل نہیں ہوتا اور قانون کا علم بتدریج سیکھنے کا عمل ہے۔ انہوں نے ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ہمراہ جیل کا دورہ کرنے پر ایک خاتون قیدی نے بتایا کہ دوران پیشی اس نے کبھی جوڈیشل افسر کا چہرہ بھی نہیں دیکھا۔ ہمیشہ عدالت سے باہر ہی بٹھایا جاتا ہے جس پر فاضل چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا۔ فاضل جج نے مذکورہ واقعہ کی روشنی میں شرکاءکو تنبیہ کی کہ اگر کام کرنا ہے تو کریں۔ انصاف دے سکتے ہیں تو دیں اور اگر کام مشکل ہے تو گھر چلے جائیں۔ اس کے علاوہ کوئی بھی درمیانی راستہ نہیں ہے۔ آج ضلعی عدلیہ کو پہلے سے بہت زیادہ سہولیات میسر ہیں ایک دہائی قبل ایسی مراعات کا تصور بھی نہ تھا۔ فاضل جسٹس نے کہا کہ عدلیہ بحالی کی تحریک کے بعد عدلیہ کی عزت پوری دنیا میں ہے اور ہم نے بہتر طور پر انصاف فراہم کر کے اس عزت و وقار کا دفاع کرنا ہے۔ فاضل جج نے شرکاءمیں اسناد بھی تقسیم کیں۔ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل جسٹس (ر) تنویر احمد خان نے کہا کہ مقدمات کے فیصلے کرتے وقت قرآن مجید اور احادیث سے رہنمائی لینے سے ججوں پر بوجھ کم ہو جاتا ہے۔ تقریب سے زیرِ تربیت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں اور سول ججوں کے نمائندوں عصمت اللہ خان نیازی اور مغیرہ منور نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔