فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان کے دوران مسلم خواتین میں بیداری پیدا کی: مقررین

لاہور(خصوصی رپورٹر) مادرملت نے تحریک پاکستان کے دوران برصغیر کی مسلم خواتین میں بیداری پیداکی اورانہیں آزادی کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ایوب خان کیخلاف صدارتی الیکشن میں روزنامہ نوائے وقت اور  ڈاکٹر مجید نظامی نے محترمہ فاطمہ جناح کی بھرپور حمایت کی اور انہیں مادرملت کا خطاب دیا۔اگر ایوب خان کے مقابلے میں دھاندلی کے ذریعے آپ کو نہ ہروایا جاتا تو پاکستان کبھی نہ ٹوٹتا۔  ڈاکٹر مجید نظامی نے مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کے افکار کا جو پرچم سربلند کیا تھا ہم اسے سر بلند اور ان کا مشن جاری رکھیں گے۔خواتین کو مادرملت کے نقش قدم پر چلنا اوران کی پیروی میں پاکستان کی تعمیر وترقی میں بھرپور حصہ لینا چاہئے۔ ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان، شاہراہ قائداعظم لاہور میںتحریک پاکستان کی عظیم رہنما، بانی پاکستان قائداعظم کی ہمشیرہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے 122ویں یوم ولادت کے سلسلے میںمنعقدہ خصوصی تقریب کے دوران کیا۔  تقریب کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔اس موقع پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسرڈاکٹر رفیق احمد،بیگم ناصرہ جاوید اقبال، بیگم بشریٰ رحمن، بیگم مہناز رفیع، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، بیگم آمنہ الفت،پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی ، میجر جنرل(ر) راحت لطیف،علامہ احمد علی قصوری،ثمن عروج،بیگم حامد رانا،بیگم شائستہ حسن، عزیز ظفر آزاد، میجر(ر) صدیق ریحان،شہزاد خان،نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہدرشید، طلبا و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔  حافظ امجد علی نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ معروف نعت خواںحافظ مرغوب احمد ہمدانی نے بارگاہ رسالت مابؐ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ مادرملت محترمہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان اورقیام پاکستان کے بعدبھی تاریخی اور مثالی کرداراداکیا۔آپ اعلیٰ کردارکاعملی نمونہ تھیں۔آپ نے برصغیر کی مسلم خواتین میں تحریک پاکستان کے دوران بیداری پیداکی اورانہیں آزادی کی اہمیت سے آگاہ کیا ۔انہوں نے کہا  ڈاکٹر مجید نظامی کی قیادت میں2003ء میں سال مادر ملت منایا گیا اور اس دوران نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے مادرملت کی حیات و خدمات پر کتب لکھنے کاانعامی مقابلہ بھی منعقد کروایا۔ آپ انتہائی دلیر اور دانشمند خاتون تھیں ، آپ نے سادہ زندگی بسرکی۔آپ کی سیاسی بصیرت بہت زیادہ تھی ، آپ نے ملک میں جمہوریت کو زندہ رکھا اور ایوب خان کی ڈکٹیٹر شپ کامقابلہ کیا۔آپ نے19سال قائداعظم کے گھر کی رکھوالی کی جبکہ آپ قائداعظم کی وفات کے19سال بعد تک بھی زندہ رہیں۔ہم پاکستان کو بانیانِ پاکستان کے نظریات و تصورات کے عین مطابق ایک جدید اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنانے کی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور  ڈاکٹر مجید نظامی کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔بیگم ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ عید الفطر کی تعطیلات کے فوری بعد مادرملت کے122ویں یوم ولادت کے سلسلے میں اس تقریب کا انعقاد  ڈاکٹر مجید نظامی کے مشن کو آگے بڑھانے کا بہترین طریقہ ہے ۔اگر ایوب خان کے مقابلے میں دھاندلی کے ذریعے آپ کو نہ ہروایاجاتاتوپاکستان کبھی نہ ٹوٹتا ۔ مادرملت  کا انتخابی نشان لالٹین ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور ہمیں اس کی روشنی میں آگے بڑھنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔بیگم بشریٰ رحمن نے کہا کہ تاریخ پاکستان کا مطالعہ کریں تو ہمیں علامہ محمد اقبال ،قائداعظم اور مادرملت جیسی عظیم ہستیاں نظر آتی ہیں۔مسلمانان برصغیر کی لازوال قربانیوں سے قائم ہونیوالا یہ ملک ہمیشہ قائم و دائم رہے گا ۔ مادر ملت ہمیشہ جمہوریت کی جنگ لڑتی رہیں۔اس قوم پر مادرملت کے بڑے احسانات ہیں اور اچھی قومیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا  ڈاکٹر مجید نظامی نے ہمیں اپنے ان بزرگوں کو یاد کرنے کا طریقہ سکھایا ہے،وہ ان کے پیروکار تھے اور اتنی ہی بڑی شخصیت تھے۔وہ قائداعظم،علامہ محمد اقبال اور مادرملت کے حقیقی وارث دکھائی دیتے تھے۔ ڈاکٹر مجید نظامی کی یادیں ہماری محفلوں اورتقریبات میں زندہ ہوتی رہیں گی اور آپ ہماری تاریخ و جغرافیہ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ان کا پیغام ہے کہ ہر چیز کا تسلسل قائم رہنا چاہئے ،ہمارا ملک و قوم ہم سے کچھ تقاضا کرتا ہے اور ہمیں ان کواور وقت کو کچھ دے کر جانا ہے۔بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ  ڈاکٹر مجید نظامی کے دل میں مادرملت کیلئے بہت عزت تھی۔خواتین کو مادرملت کے نقش قدم پر چلنا چاہئے اوران کی پیروی میں پاکستان کی تعمیر وترقی میں بھرپور حصہ لینا چاہئے ۔قائداعظم ٹی بی کے مریض تھے اور مادرملت نے ان کی صحت کا بہت خیال رکھا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مادرملت کے افکاروخیالات کو عام اور ان پر عمل کیا جائے۔پروفیسر ڈاکٹر پروین خان نے کہا کہ ہمیں اپنے محسنوں کو یادرکھنا چاہئے۔ تحریک پاکستان کے دوران مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح نے خواتین کو گھروں سے نکال کر آزادی کے لیے کام کرنے پر تیار کیا۔ وہ اپنے بھائی کے ہمراہ ہر وقت سائے کی طرح رہتیں اور ہر موقع پر ان کا بھرپور خیال رکھتیں۔وہ اپنے بھائی کی ہوبہو تصویر تھیں،انہوں نے اپنے بھائی کیلئے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔آپ نے سادہ زندگی گزاری اور ہمیں خودداری کا درس دیا۔اگر محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب خان کیخلاف صدارتی الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے نہ ہروایا جاتا تو آج ملک کی صورتحال بہت مختلف ہونا تھی۔    بیگم آمنہ الفت نے کہا کہ  ڈاکٹر مجید نظامی کی حیات وخدمات کو ہماری آئندہ نسلیں بھی یاد رکھیں گی اوران کے بتائے ہوئے راستے اور تجربات کو لے کر آگے بڑھیں گی۔مادرملت کا کردار خواتین کیلئے مشعل راہ ہے،ان کی تصویر کا تصورکر کے ہمیں آگے بڑھنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ہمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملکی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ لینا چاہئے۔ڈاکٹر ایم اے صوفی نے کہا کہ میں نے محترمہ فاطمہ جناح کے باڈی گارڈ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں۔میرے خیال میں اگر محترمہ فاطمہ جناح نہ ہوتیں تو شایدپاکستان معرض وجودمیں نہ آتا۔مادرملت نے قائداعظم کا ہرطرح سے خیال رکھا ۔ مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کے چہرے پر ایک خاص نوراورشخصیت میں خاص کشش تھی۔آپ ایک عظیم رہنما تھیں۔ مادرِ ملت کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔شاہد رشید نے کہا کہ مادرملت31جولائی1993ء کو پیدا ہوئیں اور 9 جولائی 1967ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔مادر ملت کی برسی تو ہر سال منائی جاتی تھی لیکن1993ء میں  ڈاکٹر مجید نظامی کی قیادت میں مادر ملت کا صد سالہ جشن ولادت منایا گیا تو اس وقت سے ان کی قیادت میں ہر سال مادرملت کا یوم ولادت بھی منایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مجید نظامی کی وفات کے باعث اس سال یہ تقریب انتہائی سادگی سے منائی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا 2003ء میں  ڈاکٹرمجید نظامی کی قیادت میں مادرملت کا سال منایا گیا،اس دوران درجنوں چھوٹی بڑی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ۔مادرملت نے ایوب خان کیخلاف الیکشن لڑا تو نوائے وقت اور  ڈاکٹر مجید نظامی نے ان کا بھرپور ساتھ دیااور نوائے وقت اور  ڈاکٹر مجید نظامی نے ہی محترمہ فاطمہ جناح کو مادر ملت کا خطاب دیا۔ ڈاکٹر مجید نظامی نے مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کے افکار کا جو پرچم سربلند کیا تھا ہم اسے سر بلند اور ان کا مشن جاری رکھیں گے۔ایوان قائداعظم میں قائم لائبریری کو مادرملت کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے۔ پروگرام کے آخر میں علامہ احمد علی قصوری نے دعا کروائی۔