عید گزرتے ہی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی، آنیوالے دن مزید ہنگامہ خیز ہونگے

لاہور (فرخ سعید خواجہ) عیدالفطر گزرتے ہی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔ سیاسی رہنمائوں کے درمیان ملاقاتوں کا آغاز ہوگیا ہے جس میں اگلے دو تین روز میں مزید اضافہ ہوگا اور آنے والے چند روز مزید ہنگامہ خیز ہونگے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے بھی دینی رہنمائوں سمیت سیاسی رہنمائوں سے ملاقاتوں کا شیڈول طے کرلیا ہے۔ دوسری طرف حکومت مخالف سیاسی رہنمائوں کی آپس میں ملاقاتوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع نے بتایا کہ عمران نے حکومت پر دبائو بڑھانے کیلئے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں سے مرحلہ وار استعفے دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم تحریک انصاف کی ترجمان شیریں مزاری اسکی تردید کرچکی ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری انقلاب مارچ کی منصوبہ بندی کرچکے ہیں اور اگلے 24 گھنٹوں میں انکی جانب سے ’’مارچ‘‘ کی تاریخ کا اعلان سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ (ق) لیگ کے مرکزی رہنما چودھری پرویز الٰہی اور  عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا دعویٰ ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری کے راستے ایک ہونگے تاہم وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ چاہے راستہ الگ الگ بھی اختیار کیا جائے، عمران خان اور طاہر القادری کی منزل ایک ہے کہ حکمرانوں سے قوم کو چھٹکارا دلایا جائے اور عام آدمی کو الیکشن لڑنے کے قابل بنانے کیلئے پہلے انقلابی اصلاحات نافذ ہوں تاکہ خاندانوں کی سیاست کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا جاسکے۔ حکمران جماعت نے اسلام آباد میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج بلائی ہے۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی لیڈرشپ کو نظربند کئے جانے اور کارکنوں کو گرفتار کئے جانے کے آپشن پر بھی کام ہورہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں فہرستیں تیار کی جا چکی ہیں۔