عرب شہزادوں کو شکار کیلئے علاقے الاٹ کرنیکا اختیار صوبائی حکومتوں کو دیا جائے: پنجاب‘ بلوچستان

لاہور (معین اظہر سے) بلوچستان و پنجاب حکومتوں نے عرب شہزادوں کو پاکستان میں شکار کیلئے وزارت خارجہ کی طرف سے علاقے الاٹ کرنے پر اعتراضات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ عرب شہزادوں کو علاقے الاٹ کرنے کا اختیار صوبائی حکومتوں کو دیا جائے۔ وزارت خارجہ بین الاقوامی قوانین اور 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد قانون کے خلاف ورزی کر رہا ہے اسلئے عرب شہزادوں کو علاقے ہم خود الاٹ کریں گے۔ جو علاقے عرب شہزادوں کو الاٹ ہوتے ہیں ان علاقوں میں 20 ہزار پاکستانیوں کے خلاف مقدمے درج ہوئے جبکہ عرب شہزادوں کو ہمارے حکمران خوش کرنے کیلئے شکار کیلئے علاقے الاٹ کرتے ہیں۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ نے عرب شہزادوں کی خدمت کا مسئلہ مشترکہ مفادات کونسل میں بھجوا دیا ہے کہ وزارت خارجہ کو علاقے الاٹ کرنے سے روکا جائے جبکہ پنجاب حکومت نے بھی اسکی حمایت کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے حکمران طبقہ میں عرب شہزادوں کی اتنی زیادہ محبت ہے کہ وزارت خارجہ اور صوبائی حکومتوں میں اس پر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ کی منظوری کے بعد بلوچستان حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل میں مسئلہ اٹھایا ہے اور کیس وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھجوا دیا ہے اس میں کہا ہے کہ ہر سال وزارت خارجہ عرب شہزادوں کو بلوچستان میں علاقے الاٹ کرتا ہے اور صوبائی حکومت سے پوچھا بھی نہیں جاتا جبکہ بین الاقوامی کنزرویشن قانون اور 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی حکومت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ شکار کا لائسنس جاری کرسکیں۔ پنجاب حکومت نے بھی بلوچستان کے موقف کی حمایت کر دی ہے اس کیلئے پنجاب کے محکمہ جنگلات کی جانب سے بھجوائی جانے والی رپورٹ کو وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت کو بھجوا دیا گیا ہے تاہم وزیراعظم کی جانب سے اس مسئلہ کو منظر عام پر نہ آنے کیلئے ایک کمیٹی بنا دی جس کو کہا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل سے پہلے تمام صوبوں کا موقف لیا جائے اور اسکا حل تجویز کیا جائے۔ اس سلسلے میں کمیٹی کی تین میٹنگ ہوچکی ہیں۔ واضح رہے کہ عرب شہزادوں کو ہر سال اکتوبر سے مارچ تک پنجاب اور بلوچستان میں علاقے الاٹ کئے جاتے ہیں۔ ہر سال تقریباً 20 سے 30 شہزادوں کو شکار کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ ان عرب شہزادوں کو سہولت دینے کیلئے کوئی پیسے بھی نہیں لئے جاتے۔