سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ مسلم لیگ (ن) پی پی کے مشورے کو اہمیت دینے لگی

لاہور (خبرنگار) ملکی سیاست کا درجہ حرارت مسلسل بڑھتا جا رہا ہے اور حکومت نے اُسے کم کرنے کیلئے پیپلزپارٹی کے 5سال تجربوں سے فائدہ اٹھانے اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے مشوروں کو اہمیت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک روز قبل تک مسلم لیگ (ن) کے ہاکس کہہ رہے تھے کہ 14اگست کو جو قانون ہاتھ میں لے گا وہ خود بھگتے گا مگر گزشتہ روز نوازشریف، شہبازشریف، چودھری نثار علی خان کی ملاقات میں 14اگست کے لانگ مارچ سے سیاسی انداز میں نبٹنے کی بات کی گئی اور سسٹم بچانے کی حکمت عملی پر غور شروع کر دیا گیا۔ پیپلزپارٹی جسے اپنے 5سال کے دوران مسلسل مسلم لیگ (ن) کی طرف سے الزام تراشی اور سخت تنقید کا سلسلہ جاری رہا، مسلسل مفاہمانہ پالیسی پر گامزن رہی۔ علامہ طاہر القادری کے اسلام آباد دھرنے کے موقع پر بھی پی پی نے ’’ڈنڈے سے نبٹنے‘‘ کی پالیسی نہیں اپنائی۔ پیپلزپارٹی کی قیادت مسلم لیگ (ن) کو بھی عمران خان کے دھرنے اور لانگ مارچ سے سیاسی انداز اور جمہوری طریقوں سے نبٹنے کا مسلسل مشورہ دے رہی تھی۔ زرداری، خورشید شاہ، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت تمام رہنمائوں کا مسلم لیگ (ن) کو یہی مشورہ تھا کہ لانگ مارچ کو روکا نہ جائے، سیاسی آزادی دی جائے، سیاسی ایکیٹویٹی پر قدغن لگانے کا نقصان ہو گا۔ لانگ مارچ اور دھرنے سے ڈنڈے سے نبٹنے کی پالیسی کا استعمال حکومت کو ہی بھگتنا پڑے گا لہٰذا اس سے گریز کیا جائے مگر دوسری طرف حکومت آرٹیکل 245کا استعمال کرکے اسلام آباد کو فوج کے حوالے کر چکی ہے۔ اب حکومت کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ فوج کو کس حد تک ’’استعمال‘‘ کرنا ہے۔