خیبر پی کے اسمبلی کی تحلیل کی خبریں عوام کو پسند ہیں نہ ہم استعفے دینگے: سراج الحق

 خیبر پی کے اسمبلی کی تحلیل کی خبریں عوام کو پسند ہیں نہ ہم استعفے دینگے: سراج الحق

لاہور (سپیشل رپورٹر) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے نوازشریف نے آئین کے آرٹیکل 245کے تحت اسلام آباد کو فوج کے حوالے کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ آئینی طور پر درست لیکن سیاسی طور پر صریحاً غلط فیصلہ ہے۔ کوئی ایسا سانحہ، واقعہ یا حادثہ رونما نہیں ہونا چاہئے جس کے نتیجے میں پھر کسی کو مارشل لاء لگانے کا موقع مل جائے۔ خیبر پی کے اسمبلی صوبے کے عوام کی امانت ہے اسے تحلیل کرنے کی خبروں کو صوبے کے عوام نے پسند نہیں کیا۔ جمہوری ادارے چلتے رہنا چاہئیں۔ صوبے میں تین سیاسی جماعتوں پر مشتمل حکومت ہے۔کوئی پارٹی حکومت سے الگ ہونا چاہے تو وہ الگ ہو سکتی ہے لیکن اسمبلی توڑنا درست اقدام نہ ہوگا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن جلد از جلد ختم کرکے متاثرین کی فوری طور پر اپنے گھروں کو باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے بنوں میں جلسہ عام سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ نوازشریف وفاقی دارالحکومت میں امن قائم نہیں رکھ سکتے تو وہ کراچی، لاہور ، کوئٹہ ، پشاور اور قبائلی علاقوں میں کیسے امن قائم کریںگے۔ عوام نے نوازشریف کو مسائل حل کرنے کے لئے ووٹ دئیے ہیں لیکن وہ اپنے معاملات دوسروں کے سپرد کرکے اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہاکہ لاشوں کی سیاست بند کی جائے اور پیار اور محبت کی زبان میں بات کی جائے۔ قبائلی بچوں کے ہاتھ میں کلاشنکوف کی بجائے قلم اور کتاب دی جائے۔ ملک سے ڈالروں کی سیاست کو ختم کرکے ملک کے اقتدار غریب عوام کے حوالے کر کے دم لیںگے۔ ایسے لوگ شریعت سے نہیں ڈرتے صرف چور ڈرتے ہیں۔ آن لائن کے مطابق سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی استعفے نہیں دیگی۔
سراج الحق