گورنر پنجاب تعیناتی کیس: ہائیکورٹ نے تفصیلات اور تقرری کی تاریخ مانگ لی

لاہور(وقائع نگار خصوصی) جسٹس سید منصور علی شاہ نے رانا محمد اقبال سپیکر پنجاب اسمبلی کی بطور قائم مقام گورنر تعیناتی کے خلاف دائر کیس کی سماعت 7اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے مستقل گورنر لگانے کے بارے میں تمام تفصیلات اور تاریخ طلب کرلی۔ منیر احمد ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر درخواست میں محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ 29جنوری 2015 کو چوہدری محمد سرور کے استعفیٰ دینے کے بعد وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 101(5) کے تحت سپیکر پنجاب اسمبلی کو  قائم مقام گورنر پنجاب تعینات کردیا۔  27فروری کو عدالت نے واضح طور پرکہا کہ آئین نے گورنر تعینات کرنے کیلئے کوئی میعاد مقرر نہیں کی۔ اس لئے جلد از جلد آئینی عہدے پر مستقل تقرری کی جائے۔ دو ماہ سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے اور گورنر تعینات نہیں کیا گیا۔ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ابھی تک گورنر کیوں نہیں تعینات کیا گیا؟ مستقل آئینی عہدہ عارضی بنیادوں پر نہیں چلایا جاسکتا گورنر تعیناتی کیلئے کتنے لوگوں کے ناموں پر غور کیا گیا اور اب تک کیا ہوا ہے آپ عدالت کو بتائیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے مزید وقت مانگا۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ دوبارہ پھر آپ کہیں گے کہ ہمیں وقت چاہیے عدالت کو آج بتایا جائے کہ مستقل گورنر کب لگایا جائے گا۔ عدالت نے سماعت ایک گھنٹے کیلئے ملتوی کی تاکہ وفاقی حکومت سے ہدایات لے کر بتایا جائے کہ کب تک نیا گورنر تعینات کیا جائے گا۔ دوبارہ سماعت میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ منگل تک عدالت کے سامنے مستقل گورنر تعینات کرنے کے بارے میں تفصیلات رکھ دی جائیں گی۔