پنجاب: کینسر کا کوئی سرکاری ہسپتال ہے نہ سپیشلسٹ ڈاکٹر، مریضوں کو علاج میں مشکلات

لاہور(ندیم بسرا) پنجاب بھر میں سرکاری سطح پر کوئی بھی کینسر کا ہسپتال موجود نہیں ہے۔ مختلف سرکاری ہسپتالوں میں کینسر کے سپیشلسٹ ڈاکٹر بھی موجود نہیں ہر ہسپتال میں سرجری کے ڈاکٹرز ہی کینسر کے مریضوں کے علاج معالجہ میں پیش پیش ہیں ۔ پاکستان میں ہر سال دس لاکھ افراد سرطان کا شکار ہوتے ہیں جبکہ ملک بھر میں کینسر کے علاج کے لئے دستیاب سہولتیں صرف چالیس ہزار مریضوں کے لئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب میں ایک لاکھ 62ہزار افراد ہر سال کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں، کینسر پر قابو پانے کیلئے پنجاب بھر میں سرکار ی سطح پرکوئی سنٹر نہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مریضوں کو دردکش دوائی مورفین کے ساتھ دوسری ادویات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اس علاج کے لئے ایک علیحدہ وارڈ اور تربیت یافتہ خصوصی معالج درکار ہوتے ہیں۔ اس مرحلے کے علاج کو ـــــ "علامتی علاج کا وارڈ کہا جاتا ہے۔ اور یہ علامتی علاج کے ماہرین کے زیر نگرانی چلایا جاتا ہے۔ خواتین میں چھاتی کا کینسر سب سے زیادہ پاکستان میں پھیل رہا ہے۔ انمول ہسپتال میں ہر سال چار ہزار نئے کیس رجسٹرڈ ہورہے ہیں۔ نئے رجسٹر ہونے والوں مریضوں میں سے 35 فیصد مریض چھاتی کے کینسر کے ہوتے ہیں۔ جن میں سے بھی 60 سے 70 فیصد مریض تیسری یا چوتھی سٹیج پر پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ ہر سال 90ہزار نئے کیس پاکستان میں رجسٹر ہوتے ہیں جن میں سے 40 ہزار کے قریب جن میں نوجوان لڑکیاں بھی شامل ہیں جو موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ہر نو خواتین میں سے ایک خاتون چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہے۔ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ تشخیص کا ہے، زیادہ تر خواتین تو تشخیص سے قبل ہی موت کا شکارہو چکی ہوتی ہیں۔ تشخیص کیلئے میموگرافی، چھاتی کا الٹراسائونڈ اور چھاتی کی ایم آر آئی کروانی چاہئے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سگریٹ، پان ، چھالیہ ، سپاری، مصنوعی رنگوں کے استعمال سے کینسر جیسا موذی مرض لگ سکتا ہے۔