پنجاب: اربوں کی کرپشن سے متعلق ایک لاکھ 5 ہزار آڈٹ پیرے 8 سال سے زیر التوا

لاہور (معین اظہر سے) پنجاب میں اربوں روپے کی خورد برد، اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن، سرکاری فنڈز ذاتی طور پر خرچ کرنے اور بغیر منظوری فنڈز خرچ کرنے کے ایک لاکھ پانچ ہزار آڈٹ پیرے گزشتہ 8 سال سے محکمانہ کمیٹیوں میں زیرالتوا پڑے ہوئے ہیں یہ پبلک اکاؤنٹس کو بھیجے ہی نہیں گئے۔ پانچ صوبائی محکمے جن میں اعلی سیاسی شخصیات کے منظور نظر افسر لگے ہیں جن میں 10 ہزار یا اس سے زیادہ آڈٹ پیرے زیرالتوا ہیں ان میں ہوم ڈپارٹمنٹ، سکولز ایجوکیشن، ہاؤسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ، سی اینڈ ڈبلیو اور محکمہ صحت کے محکمے شامل ہیں۔ کرپشن خورد برد کے ایک کروڑ سے لے کر ایک ارب روپے تک کی نشاندہی کے درجنوں کیس بھی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض کیسوں میں اربوں روپے کا ریکارڈ غائب ہو گیا ہے۔ محکموں کے اندر کوئی نظام موجود نہیں جو کرپشن پکڑ سکے محکموں کے اندر ریٹ طے ہیں۔ آڈٹ ٹیموں سے 80 فیصد کرپشن کلیئر کرا لی جاتی ہے نہ چھپائی جانی والی کرپشن آڈٹ پیروں میں آجاتی ہے پانچ سے دس سال تک محکموں کی کمیٹیاں اسے لٹکائی رکھتی ہیں نہ ہی انکو پبلک اکاونٹس کمیٹی کو بھیجا جاتا ہے جس پر عموماً محکموں میں ان کے کاغذات غائب ہو جاتے ہیں یا افسر ریٹائر ہو کر پنشن اور دیگر بقایاجات کلیئر کر کے چلے جاتے ہیں جس پر ان پیروں کو نیچے کی سطح پر محکموں کے اعلی افسر ریٹ طے ہونے پر مک مکا کر لیتے ہیں۔ ایک لاکھ 5 ہزار آڈٹ پیرے جو محکموں کی سطح پر زیرالتوا ہیں ان کی تفصیل اس طرح ہے۔ ہوم ڈپارٹمنٹ پنجاب کے 11 ہزار 233 آڈٹ کیس ہیں۔ سکولز ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے 12 ہزار 854، محکمہ ہاوسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ کے 10 ہزار 520، محکمہ صحت کے 13 ہزار 741، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے 10 ہزار، محکمہ زراعت کے 2281، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے 2200، محکمہ خوراک کے 4860، محکمہ جنگلات کے 3461، ہائیر ایجوکیشن کے 8182، محکمہ آبپاشی کے 7478، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے 1086، پاپولیشن ویلفیر کے 1136، بورڈ آف ریونیو کے 3908، محکمہ اطلاعات کے 1574، لوکل گورمنٹ کے 1556، محکمہ کوآپریٹوز کے 91، محکمہ ماحولیات کے 177، محکمہ انڈسٹری کے 489، محکمہ محنت کے 202، محکمہ قانون کے 367، لٹریسی ڈپارٹمنٹ کے 71، لائیو سٹاک کے 453، مائینز اینڈ منرل کے 661، پنجاب پبلک سروس کمشن کے 77، پنجاب سروسز ٹربیونل کے 24، سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے 262، سوشل ویلفیئر کے 768، سپیشل ایجوکیشن کے 227، ٹیوٹا کے 823، محکمہ ٹرانسپورٹ کے 13، یوتھ افیئرز کے 12، زکوۃ عشر ڈپارٹمنٹ کے 49، وزیر اعلی انسپکشن ٹیم کے 7 آڈٖٹ پیرے زیرالتوا ہیں۔ اس حوالے سے محکمے عموما زیادہ تر آڈٹ پیرے آڈٹ ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر محکموں کی سطح پر ہی طے کر لیتے ہیں جسے کلیئر کر لیا جاتا ہے نہ ان پر تحقیقات ہوتی ہے نہ کارروائی ہوتی ہے فائل بعد ازاں محکموں سے غائب ہو جاتی ہے۔