لاہور کی خصوصی عدالتوں نے ایک ماہ میں 46 فیصلے کئے، سخت سکیورٹی کی ضرورت

لاہور (شہزادہ خالد) لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں نے ایک ماہ میں 46 مقدمات کے فیصلے کئے۔ پنجاب میں انسداد دہشت گردی کی 14 خصوصی عدالتوں میں سے چار لاہور میں ہیں۔ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک نے ایک ماہ میں 7، عدالت نمبر 2 نے 9، عدالت نمبر 3 نے 14 اور عدالت نمبر 4 نے 16 مقدمات کا فیصلہ کیا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے سروے کے دوران عدالتی اہلکاروں نے نوائے وقت کو بتایا یہاں انتہائی خطرناک مجرموں کے کیس آتے ہیں، ہماری جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے لیکن ہمیں رسک (risk) الائوس نہیں دیا جاتا۔ 14 میں سے 8 خصوصی عدالتوں کے اہلکاروں کو جوڈیشل الائونس، یوٹیلٹی الائونس دیا جا رہا ہے جبکہ لاہور کی4 عدالتوں سمیت 6 عدالتوں کے اہلکاروں کو الائونس دیا جا رہا نہ ہی اوور ٹائم۔ اہلکاروں سے 10 گھنٹے سے زائد کام لیا جا رہا ہے۔ عدالتی اہلکاروں کا پروموشن کے حوالے سے بھی کوئی سروس سٹرکچر نہیں بنایا گیا۔ لاہور کی چار خصوصی عدالتوں میں 32 عدالتی اہلکار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں انتہائی حساس اور خطرناک نوعیت کے کیس آتے ہیں جن کے باعث اہلکاروں کی رہائش عدالتوں کے قریب ہونی چاہئے اور ان عدالتوں کی سکیورٹی انتہائی سخت کی جائے کیونکہ عدالتوں کے قریب رہائش پذیر شہریوں نے سکیورٹی کو ناکافی قرار دیا ہے۔